رضا ربانی ناراض، سینیٹ سے چلےگئے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی پاناما لیکس کے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر مشاورت نہ کرنے پر سینیٹ کے اجلاس کی صدارت چھوڑ کر چلے گئے۔

میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ پاناما لیکس، بدعنوانی اور قرضے معاف کروانے جیسے اہم معاملوں کی تحقیقات کےلیے پارلیمانی پارٹی کی تشکیل کے حوالے سے وزارت پارلیمانی امور نے اُن سے کوئی مشاورت نہیں کی اور اس کمیٹی کی تشکیل کی قرارداد کو ایجنڈے میں شامل کرلیا۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ کمیٹی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے قائم کی جارہی ہے اس لیے وہ اس کی مخالفت تو نہیں کرتے لیکن چونکہ ان کے نزدیک اس میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیےگئے اس لیے وہ (رضا ربانی) یہ نہیں چاہیں گے کہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی قرارداد اُن کی سربراہی میں پاس کی جائے۔

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا تعلق پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔

میاں رضا ربانی کے اجلاس سے اُٹھ کر چلے جانے کے بعد حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیٹر جاوید اقبال عباسی نے پریذائیڈنگ افسر کی خدمات انجام دیں اور ان کی سربراہی میں سینیٹ سے بھی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی قرارداد منظور کر لی گئی۔

دوسری جانب پارلیمنٹ میں حزب مخالف کی تیسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کو پاناما لیکس اور بدعنوانی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر محمد علی سیف کو قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کی جگہ حزب مخالف کی چھ رکنی کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے ایم کیو ایم کا نام حزب مخالف کی ٹیم میں شامل کرنے پر معذوری ظاہر کی تھی۔

اسی بارے میں