مشتاق رئیسانی 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے

Image caption مشتاق ریسانی کے گھر 63 کروڑ روپے ملے تھے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں بدعنوانی کے ایک بڑے سکینڈل کے مرکزی ملزم اور سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو مزید 14 روزکے ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا گیا ہے۔

ان پر جہاں نیب نے ڈیڑھ ارب روپے کی بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا ہے وہاں ان کے گھر سے 65 کروڑ 18 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی ملکی اور غیر ملکی کرنسی کی برآمدگی کا بھی دعویٰ کیا گیا تھا۔

گذشتہ ریمانڈ کی مدت کے خاتمے کے بعد سابق سیکریٹری خزانہ کو دوبارہ احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

نیب کی درخواست پر احتساب عدالت کے جج مجید ناصر نے ان کے ریمانڈ میں مزید 14یوم کی توسیع کر دی۔

اس مقدمے میں ایک اور ملزم ندیم اقبال کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے ۔

ندیم اقبال ضلع قلات کے میونسپل کمیٹی خالق آباد کے اکاؤنٹنٹ تھے اور ان کو بھی احتساب عدالت کوئٹہ نے 14روز کے ریمانڈ پر نیب کے حوالے کرنے کا حکم صادر کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بدعنوانی کے اس بڑے سکینڈل میں بلوچستان کے سابق مشیر برائے خزانہ اور نیشنل پارٹی کے رہنما میر خالد لانگو بھی تحقیقات کے لیے مطلوب ہیں

ندیم اقبال کی گرفتاری کے بعد اس کیس میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد پانچ ہوگئی ہے۔

بدعنوانی کے اس بڑے سکینڈل میں بلوچستان کے سابق مشیر برائے خزانہ اور نیشنل پارٹی کے رہنما میر خالد لانگو بھی تحقیقات کے لیے مطلوب ہیں۔

نیب کی جانب سے ان کو تحقیقات کے سلسلے میں پیش ہونے کے لیے تین مرتبہ سمن جاری کیے گئے لیکن تاحال وہ نیب حکام کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

میر خالد لانگو نے چند روز قبل اس مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے 12یوم کی حفاظتی ضمانت حاصل کی تھی۔

توقع ہے کہ وہ آئندہ چند روز میں حفاظتی ضمانت کی توثیق کے لیے بلوچستان ہائیکورٹ اور تحقیقات کے لیے نیب حکام کے سامنے پیش ہوں گے۔

اسی بارے میں