حکومت کا چینی باشندوں کی تعداد بتانے سے انکار

Image caption حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری کا منصوبہ صرف ایک سڑک کا نام نہیں ہے بلکہ بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعہ ہے

حکومت پاکستان نے سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ملک میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام میں مصروف چینی باشندوں کی درست تعداد بتانے سے انکار کیا ہے۔

ادھر جمعے کو سینٹ کو بتایا گیا کہ پاکستان کو امریکہ سے اتحادی فنڈ سے سنہ 2001 سے اس سال جنوری تک 13.7 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں۔

٭ پاکستان چین آپٹیکل فائبر کیبل منصوبے کا سنگ بنیاد

٭ چین اور پاکستان کے درمیان دو ارب ڈالر کے معاہدے

٭ ’اقتصادی راہداری کے خلاف مہمات سے آگاہ ہیں‘

سینیٹر طلحہ محمود کی جانب سے سینیٹ کے اجلاس میں چینی باشندوں کی تعداد کے بارے میں سوال کے جواب میں منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اس بارے میں تازہ ترین معلومات وزارت داخلہ کے پاس ہیں تاہم سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ان کی تعداد کو ظاہر کرنا درست نہیں ہوگا۔

وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ان غیر ملکیوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی وزارت داخلہ کی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ورکروں پر متعدد بار شدت پسندوں کی جانب سے جان لیوا حملے کیے جا چکے ہیں۔

اقتصادی ماہر قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ ہزاروں کلو میٹر پر پھیلی سڑکیں اس منصوبے کا اہم ترین جزو ہیں اور ان پر کام کرنے والے چینی کارکنوں کو تحفظ کی ضمانت کے بغیر اس منصوبے کی تعمیر ممکن نہیں ہو گی۔

Image caption ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ورکروں پر متعدد بار جان لیوا حملے ہو چکے ہیں

پاکستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی راہداری کا یہ منصوبہ صرف ایک سڑک کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک فریم ورک ہے جو بہت سے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعہ ہے جس میں بجلی گھر، صنعتی زون، ثقافتی منصوبے اور حتیٰ کہ ٹیلی وژن اور ریڈیو سٹیشن تک شامل ہیں۔

پاکستان کے منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال نے گدشتہ برس کہا تھا ’پاکستان چین اقتصادی راہداری‘ منصوبے پر تعمیراتی کام شروع ہو چکا ہے اور گوادر کو خضدار، کوئٹہ اور ڈیرہ اسماعیل خان سے ملانے والی سڑک رواں برس تک مکمل کر لی جائے گی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیٹر عتیق شیخ کے ایک دوسرے سوال کے جواب میں کہ کتنے پاکستانی اور چینی شہری راہداری منصوبے پر کام کر رہے ہیں، احسن اقبال کا کہنا تھا کہ راہداری کا منصوبہ طویل مدتی ہے اور کارکنوں کی تعداد ہر منصوبے میں مختلف ہوگی لہذا درست تعداد بتانا مشکل ہوگی۔

اس سوال پر کہ ان منصوبوں پر کون تعیناتیاں کرتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ وزارتیں، تنظیمیں اور ادارے ورکرز تعیناتی کے مروجہ اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مقامی افراد کی ہنر مندانہ تربیت راہداری منصوبے کے طویل مدتی حصے میں شامل ہے اور اس کا طویل مدتی منصوبہ ترتیب دیا جا رہا ہے۔

سینیٹر نثار محمد کے سوال کے جواب میں کہ پاکستان کو امریکہ سے کوالیشن سپورٹ فنڈ میں آج تک کتنی رقم موصول ہوئی ہے، وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بتایا کہ ستمبر سنہ 2001 سے جنوری سنہ 2016 تک امریکہ نے 13.7 ارب ڈالر موصول ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں