پیر، گناہ گار اور خدا کے سپاہی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنوبی پنجاب میں جگہ جگہ رنگارنگ مزار بکھرے ہیں جو سہروردیہ، چشتیہ اور اویسیہ سلسلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور لاکھوں لوگ ان سے عقیدت رکھتے ہیں

کئی سال پہلے پنجاب کے سب سے بڑے ڈویژن بہاولپور میں اگر کسی پولیس افسر کی تعیناتی کر دی جاتی تو وہ دلبرداشتہ ہو کر ادھر کا رخ کرتا، لیکن وہاں سے واپسی پر وہ اس سے بھی زیادہ دکھی ہوتا۔

آخر کون پنجاب کے ایک دورافتادہ علاقے میں تعیناتی پر خوش ہو سکتا ہے؟ لیکن دوسری طرف بہاولپور جیسے پرامن اور پرسکون علاقے سے واپسی کا خیال بھی کچھ زیادہ دل خوش کن نہ ہوتا۔

* ڈکیت اور جنگجو: جنوبی پنجاب میں عسکریت پسندی

* جنوبی پنجاب میں شدت پسندی: کلک ایبل نقشہ

تاریخی اعتبار سے بہاولپور میں خواتین سے متعلق زیادہ تر پولیس کیس اغوا یا پھر گھر سے بھاگ جانے والی عورتوں پر مبنی ہوا کرتے۔ ’ناموسی قتل‘ کے واقعات کم ہی دیکھنے کو ملتے۔ یہ رجحان بہت بعد میں شمالی و وسطی پنجاب اور پشتونوں کی اس علاقے میں ہجرت کے بعد وہاں پروان چڑھا۔

کیا ان لوگوں میں ناموس کی کمی تھی، یا پھر یہ حقیقت پسندی کہ عورتیں لیبر فورس کا لازمی جزو ہیں، انھیں وٹہ سٹہ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، اس لیے انھیں یوں ضائع نہیں کرنا چاہیے؟

زرخیز زمین کے باوجود غربت اس علاقے کے منظرنامے کا نمایاں حصہ رہی ہے لیکن سندھ کی طرح، جو زرعی طور پر مالامال ہے لیکن اس کے باوجود وہاں بڑے زمینداروں کی عمل داری رہی ہے، جنوبی پنجاب وہ خطہ ہے جہاں اب تک بڑے زمینداروں نے قدم جما رکھے ہیں۔

Image caption جنوبی پنجاب میں زراعت روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور 55 فیصد لوگ اس سے وابستہ ہیں

مثال کے طور پر سنہ 2013 میں یو ایس ایڈ نے جنوبی پنجاب کے چار اضلاع ملتان، لودھراں، بہاولپور اور مظفرگڑھ، پر زمین کی مالکان تقسیم کے بارے میں تحقیق کی، جس سے پتہ چلا کہ زیادہ تر زمین بڑے زمینداروں کے پاس ہے۔

تقریباً دو فیصد زمینداروں کے پاس 20 فیصد زمین ہے، جب کہ 30 فیصد زمینداروں کی 50 فیصد زمین پر عملداری ہے، جب کہ چھوٹے کسانوں کی اکثریت بقیہ 20 فیصد زمین پر اکتفا کیے ہوئے ہے۔

اس کا واضح اثر علاقے کی مجموعی سماجی اور معاشی ترقی پر پڑتا ہے۔

لاہور کی لمز یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق جنوبی پنجاب میں غربت کا تناسب پنجاب کے دوسرے علاقوں سے زیادہ ہے۔ جنوبی پنجاب میں غربت 50.1 فیصد، جنوب مغربی پنجاب (جسے جنوبی پنجاب ہی میں شمار کیا جاتا ہے) میں 52.1 فیصد تھی، جب کہ وسطی پنجاب میں 28.76 فیصد اور شمالی پنجاب میں 21.31 فیصد تھی۔

جنوب مغربی پنجاب انسانی ترقی کے اشاریوں میں بھی پیچھے ہے مثلاً راجن پور اور رحیم یار خان جیسے اضلاع، جہاں فوج نے حال ہی میں کارروائیاں کی ہیں، حفاظتی ٹیکوں، پانچ سال سے کم بچوں کی شرحِ اموات، زچہ و بچہ کی دیکھ بھال، تعلیم اور بچوں کے سکول جانے کی شرح کے لحاظ سے پنجاب میں سب سے پیچھے ہے۔

Image caption ملتان اور مظفر گڑھ جیسے علاقوں میں، جہاں نسبتاً زیادہ صعنتیں دیکھنے میں آتی ہیں، وہاں بھی اکثر کارخانے زرعی شعبے سے وابستہ ہیں، مثلاً چینی بنانے کی ملیں اور ٹیکسٹائل کے کارخانے

اس کے علاوہ وہ لڑکے جو کبھی سکول نہیں جاتے ان کی شرح جنوبی پنجاب میں 30 فیصد، مغربی پنجاب میں 27 فیصد، وسطی پنجاب میں 12 فیصد، جب کہ شمالی پنجاب میں چھ فیصد ہے۔ لڑکیوں میں یہی شرح جنوبی پنجاب میں 44 فیصد، مغربی پنجاب میں 44.5 فیصد، وسطی پنجاب میں 23 فیصد، جبکہ شمالی پنجاب میں 15 فیصد ہے۔

اسی طرح جنوبی پنجاب میں کنبے کا حجم (سات تا ساڑھے سات افراد) پاکستان میں سب سے زیادہ ہے لیکن اس کے پہلو بہ پہلو اسی علاقے میں پانی، گیس اور بجلی کی سہولیات سے آراستہ مکانوں کی شرح سب سے کم ہے۔

یہاں معمر افراد کی تعداد بھی مقابلتاً زیادہ ہے، جب کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شرح وسطی اور جنوبی پنجاب سے کہیں کم ہے۔ صاف پانی، صحت اور تعلیم جیسی سہولیات کی کمی نمایاں ہے، اور لوگ اکثر اس کے بارے میں شکایت کرتے سنے جا سکتے ہیں۔

لیکن جنوبی پنجاب کے ضلعوں میں ایک دوسرے کے مقابلے پر اور خود ایک ہی ضلعے کے مختلف علاقوں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ بعض علاقے دوسروں سے کم ترقی یافتہ ہیں۔ غربت کے درجوں کی ایک وجہ متنوع معاشی سانچے ہو سکتے ہیں۔ جیسے بعض علاقوں میں صنعت کی نسبت زراعت پر زیادہ انحصار ہے۔

جنوبی پنجاب میں زراعت روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور 55 فیصد لوگ اس سے وابستہ ہیں۔ اس کے مقابلے میں شمالی پنجاب میں یہ شرح 27 فیصد جب کہ وسطی پنجاب میں 33 فیصد ہے۔

Image caption جنوبی پنجاب وہ خطہ ہے جہاں اب تک بڑے زمینداروں نے قدم جما رکھے ہیں

درحقیقت زیادہ تر بھاری صنعتیں وسطی اور شمالی پنجاب میں قائم ہیں، جب کہ جنوبی اور مغربی پنجاب میں صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ حتیٰ کہ ملتان اور مظفر گڑھ جیسے علاقوں میں، جہاں نسبتاً زیادہ صعنتیں دیکھنے میں آتی ہیں، وہاں بھی اکثر کارخانے زرعی شعبے سے وابستہ ہیں، مثلاً چینی بنانے کی ملیں، ٹیکسٹائل کے کارخانے اور کھڈیاں۔

یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ اس علاقے کی آبادی میں سیاسی بےچینی پائی جاتی ہے، جو اکثر اوقات مختلف نسلی گروہوں کے درمیان کشیدگی کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ علاقے میں سرائیکی بولنے والوں کی اکثریت ہے، لیکن بظاہر پنجابی، اردو اور پشتون آبادکاروں نے مقامی لوگوں کو معاشی اعتبار سے پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اب تک یہ بےچینی ووٹنگ کے رجحانات میں ظاہر نہیں ہوئی۔ مثال کے طور پر پنجابی آبادکاروں اور مسلم لیگ ن، جو پنجابی آبادکار ارکانِ پارلیمان کو سرائیکی بولنے والوں پر ترجیح دیتی ہے، کے خلاف غم و غصے کے باوجود یہاں کی آبادی کی اکثریت نے 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کو ووٹ دیا۔

لیکن یہ نتائج ان لوگوں کو مایوس کر گئے جو سرائیکی یا جنوبی پنجاب صوبہ بنانا چاہتے تھے۔ آپ اس علاقے میں گھوم پھر کر دیکھیں تو آپ کو آزادانہ سیاسی شناخت کی بازگشت سنائی دے گی۔ سرائیکی ادب اور شاعری میں خوداختیاری اور شناخت کے جذبات موجزن نظر آتے ہیں۔ تاہم فی الوقت سرائیکیوں کے لیے اپنا صوبہ محض ایک خواب کی مانند ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جنوبی پنجاب میں بھڑکیلے کپڑے پہنے مرد، عورتیں اور بچے درگاہوں پر ہونے والے عرس اور میلوں میں شرکت کے لیے جاتے نظر آتے ہیں

زمیندار طبقے پر مشتمل یہاں کی پرانی سماجی اور سیاسی اشرافیہ یہاں سے نقلِ مکانی کر کے جنوبی اور شمالی پنجاب کے شہروں میں جا بسی ہے۔ اس کی جگہ لینے والی نئی اشرافیہ مختلف طبقوں کا مغلوبہ ہے جس سے معاملات مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔

اس کی وجہ سے علاقہ نئی طاقتوں کے رحم و کرم پر نظر آتا ہے جن میں عسکریت پسند شامل ہیں یا پھر پرانی طاقتیں ہیں جن میں سیاست دان، افسر شاہی اور پیر و سجادہ نشین شامل ہیں۔

جنوبی پنجاب میں جگہ جگہ رنگارنگ مزار بکھرے ہیں جو سہروردیہ، چشتیہ اور اویسیہ سلسلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور لاکھوں لوگ ان سے عقیدت رکھتے ہیں۔

آپ کو جگہ جگہ ٹریکٹر ٹرالیوں میں بھڑکیلے کپڑے پہنے مرد، عورتیں اور بچے درگاہوں پر ہونے والے عرس اور میلے میں شرکت کے لیے جاتے نظر آتے ہیں۔

اس کے باوجود ہوا کا رخ بدلتا دکھائی دیتا ہے۔ جنوبی پنجاب کے سماجی باسی صرف پیر یا گناہگار نہیں رہے۔ سماجی اور معاشی جدیدیت یہاں عسکریت پسندوں کو بھی لے آئی ہے، جو خدا کے سپاہیوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔