لیہ میں نابینا خاتون کےساتھ مبینہ گینگ ریپ، مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کو پندرہ سال قبل تیزاب پھنکنے کے ایک واقعہ میں نابینا ہوگئی تھی۔

پاکستان کے صوبے پنجاب کے جنوبی شہر لیہ میں زکوۃ دینے کے بہانے ایک معذور لڑکی کو مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ملزمان لڑکی کو زخمی حالت میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

سینچر کو لیہ شہر کی پولیس کے سربراہ محمد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ کوٹ سلطان کی رہائشی خاتون کو یونس نامی شخص نے اپنے ڈیرے پر زکوۃ دینے کی غرض سے بلایا ۔

٭ لاہور: کم عمر لڑکی کے ریپ کے الزام میں ڈی ایس پی گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کے پاس دوائی کے لیے رقم نہیں تھی اور ملزم یونس نے اُسے بتایا کہ اُس نے تین ہزار روپے زکوۃ نکالی ہے لہذا وہ یہ رقم آ کر لے جائے۔

پولیس کے بقول متاثرہ خاتون جو کہ کسی دوسرے کی مدد کے بغیر کہیں آجا نہیں سکتی، کو ملزم یونس خود ہی اپنی موٹر سائیکل پر بیٹھا کر اپنے ڈیرے پر لے گیا جہاں پر ملزم نے اپنے دیگر دو ساتھیوں خالد اور سلیم کی مدد سے اسے ایک کمرے میں لے گیا اور وہاں پر اس معذور لڑکی کو ان تینوں ملزمان نے مبینہ طور پر اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون پندرہ سال قبل تیزاب پھنکنے کے ایک واقعہ میں نابینا ہوگئی تھی۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون چونکہ نابینا ہے اس لیے وہ یہ بتانے سے قاصر ہے کہ اسے تین افراد نے جنسی ہوس کا نشانہ بنایا ہے یا کسی ایک ملزم نے۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق متاثرہ خاتون شادی شدہ ہیں اور اس کے چار بچے میں جبکہ اُن کا شوہر راولپنڈی کی ایک فیکٹری میں محنت مزدوری کرتا ہے۔

مذکورہ متاثرہ خاتون کو سنہ 2001 میں رشتہ کے تنازعہ پر اس کے چہرے پر تیزاب پھینک دیا گیا تھا جس کی وجہ سے اس کی دونوں آنکھوں کی بینائی چلی گئی تھی۔ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کو جرم ثابت ہونے پر چودہ برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق متاثرہ خاتون کی درخواست پر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ اس مقدمے کے سلسلے میں ایک ملزم سلیم کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اسی بارے میں