اقتصادی ترقی کا ہدف پورا نہیں ہو سکتا: سٹیٹ بینک

Image caption اسٹیٹ بینک نے مہنگائی اور حکومتی خسارے میں کمی اور مالیاتی استحکام کے بعد شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے

پاکستان کے مرکزی بینک نے شرح سود میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ 30 جون کو ختم مالی سال کے دوران ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے مقرر کردہ 5.5 فیصد کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے۔

سینچر کو سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کیےگئے مانیٹری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر ملک میں مہنگائی کی شرح چھ فیصد کے مقرر کردہ ہدف سے کم رہی گی۔

٭ مالیاتی پالیسی:شرح سود میں ایک فیصد کمی

بیان کے مطابق تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ اور غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھنے کے سبب مہنگائی کی شرح میں پہلے کی نسبت اضافہ ہو رہا ہے اور آئندہ مالی سال کے دوران ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا امکان ہے۔

سٹیٹ بینک نے مہنگائی اور حکومتی خسارے میں کمی اور مالیاتی استحکام کے بعد شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کی کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے بعد شرح سود چھ فیصد سے کم ہو کر 5.75 ہو گیا ہے۔

پالیسی بیان کے مطابق ملک میں توانائی کی صورتحال میں بہتری، امن امان کی صورتحال بہتر ہونے سے یکم جولائی 2015 سے مارچ 2016 کے دوران بڑی صنعت میں ترقی ہوئی ہے اور بڑی صنعتوں میں ترقی کی شرح 4.7 رہی ہے جبکہ رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت کی ترقی کی شرح 4.2 فیصد تک متوقع ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں اور یہ چار ماہ کی درآمدات کی ادائیگوں کے لیے کافی ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجے گئی ترسیلات میں اضافے سے ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے اور حکومتی خسارہ کم ہوا ہے۔

پاکستان کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ ’غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب بھیجی گئی ترسیلات میں کوئی منفی تبدیلی آتی ہے تو اس سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں