اب مسیحی طلاق کے لیے بدچلنی کا الزام لازمی نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لاہور ہائی کورٹ نےمسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات کو بحال کر دیا ہے جس کے تحت مسیحی خواتین کو طلاق لینے کے لیے آئندہ بدچلنی جیسے الزام کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

طلاق لینے کے لیے عام وجوہات کو بھی بنیاد بنایا جا سکے گا، تاہم بعض مسیحی حلقوں نے عدالت کے اس حکم کو ناپسند کیا ہے۔

*کوئٹہ میں تیزاب کے حملے سے دو خواتین زخمی

٭ مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر حملے

مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات پاکستان کے سابق صدر ضیا الحق کے دور حکومت میں ختم کی گئی تھی جس کے خلاف امین نامی ایک مسیحی نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ سابق صدر ضیا الحق نے مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات حذف کر دی تھی جس کے بعد مسیحی جوڑوں میں علیحدگی کے لیے صرف ایک ہی دفعہ موجود ہے جس کے تحت صرف بدچلنی کی بنیاد پر ہی طلاق دی جا سکتی ہے،گھریلو ناچاقی یا کسی اور وجہ سے طلاق نہیں دی جا سکتی جو بنیادی انسانی حقوق اور آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر کے مطابق کیس کی سماعت مکمل ہونے پر جسٹس سید منصور علی شاہ نے سوموار کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ آئین کسی کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ مسیحی طلاق ایکٹ سے دفعہ سات کا حذف کیا جانا آئین کے آرٹیکل نو اور 14 کے تحت دیے گئے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت عالیہ نے مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات کو بحال کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ طلاق کے لیے پاکستانی مسیحی جوڑے سنہ 1869 کے برطانوی قانون کے تحت ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر سکتے ہیں۔ جس کے تحت طلاق کے لیے عام وجوہات کو بھی بنیاد بنایا جا سکے گا۔

عدالتی معاون حنا جیلانی نے بھی مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات کی بحالی کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ’ عدالت عالیہ کے فیصلے سے مسیحی خواتین کو بدچلنی جیسے قبیح الزام سے چھٹکارا مل جائے گا۔‘

دوسری جانب کچھ مسیحی حلقوں کو عدالتی فیصلے پر تحفظات ہیں۔ لاہور کے مسیحی صحافی نعیم قیصر کا کہنا ہے کہ ’مسیحی مذہب میں طلاق کو برا سمجھا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ طلاق کے لیے انتہائی قلیل اور ناگزیر توجیہات پر اکتفا کیا گیا ہے۔‘

لاہور کے شاہد معراج نے عدالتی فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے مذہب میں ایک بیوی کا ہی تصور ہے اور طلاق کو ناپسند کیا گیا ہے اس لیے حتی الامکان اس کے وقوع پذیر ہونے کو ناممکن بنایا گیا ہے۔

ان کے مطابق طلاق کے لیے معدوم امکانات کی وجہ سے غلط الزامات کا سلسلہ بھی جاری تھا اور طلاق کے لیے بدچلنی کے جھوٹے الزامات لگائے جا رہے تھے جس کی روک تھام کے لیے قانون سازی بھی ضروری ہے تاکہ کوئی بھی شخص طلاق کے لیے صرف بدچلنی کا الزام نہ لگائے اور دیگر وجوہات کے بنا پر باعزت علیحدگی اختیار کر سکے۔

شاہد معراج نے بتایا کہ سابق صدر ضیا الحق نے مشاورت کے بغیر ہی مسیحی طلاق ایکٹ کی دفعہ سات کو ختم کیا تھا اور عدالت کی جانب سے اسے بحال کیا جانا خوش آئند ہے۔

اسی بارے میں