’حکومت بات سنتی ہے لیکن عملی اقدامات نہیں کرتی‘

پاکستان کی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل پر آل پاکستان ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور وفاقی حکومت کے درمیان پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں۔

پیر کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کے صدر طارق سعود نے مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد میں وزارتِ خزانہ کے حکام، وزیرِ پیٹرولیم اور سیکریٹری ٹیکسٹائل سے ملاقات کے بعد مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بات کو سنتی ضرور ہے لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتی۔

ان ملاقاتوں سے پہلے پیر کو ہی اخبارات میں ایپٹما نے اخبارات میں وزیراعظم نواز شریف کے نام ایک اشتہار دیا ہے جس میں ان سے ٹیکسٹائل کی صنعت کو بچانے کی اپیل کی گئی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف کے پاس وقت وزارتِ ٹیکسٹائل کا اضافی قلمدان ہے۔

اس اشتہار پر وزیراعظم کی تصویر کے ساتھ غالب یہ شعر تحریر ہے۔

کی میرے قتل کے بعد، اس نے جفا سے توبہہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا
تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (ایپٹما) کے صدر طارق سعود نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت ٹیکسٹائل کی ملک کی 13 ارب ڈالر کی برآمدات میں ایپٹما کا حصہ 10 ارب ڈالر ہے لیکن مسائل کی وجہ سے 110 ملیں بند ہو چکی ہیں جبکہ اس وقت 80 فیصد سے زیادہ ملیں نقصان میں چل رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کی صعنت ملک میں روزگار کے سب سے زیادہ مواقعے فراہم کرتی ہے لیکن اب مسائل کی وجہ سے فیکٹریاں بند ہو رہی ہے اور مزدور بے روز گار ہو رہے ہیں۔

طارق سعود نے بتایا کہ گذشتہ تین برس سے حکومت نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے ٹیکس ری فنڈ کی مد میں 210 ارب روپے ادا نہیں کیے جس میں ایپٹما کے ایک سو ارب روپے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے کو ہر سطح پر اٹھا کر دیکھا لیکن کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا اور اس پر موجودہ حکومت میں ٹیکسٹائل کی وزارتِ بغیر کسی وزیر کے چل رہی ہے۔

طارق سعود نے کہا کہ ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہے کہ ہمیں خطے کے دیگر ممالک سے اس شعبے میں مقابلہ کرنے کے لیے کم از کم ان کے برابر کی سہولیات دی جائیں۔

ملک میں بجلی اور گیس کی زیادہ قیمتوں کو بھی اس شعبے پر پڑنے والے اثرات کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت ٹیکسٹائل کی برآمدت میں کمی آ رہی ہے کیونکہ اس وقت صعنت پر بجلی اور گیس سرچارجز کی مد میں 170 ارب روپے کا اضافی بوجھ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ aptma
Image caption ایپٹما نے اخبارات میں وزیراعظم نواز شریف کے نام ایک اشتہار دیا ہے

طارق سعود نے دیگر ممالک سے ٹیکسٹائل کے خام مال پر درآمدی ڈیوٹی کم ہونے کو بھی مسئلے کی ایک وجہ قرار دی۔

’ہم حکومت سے درخواست کر رہے ہیں کہ چین اور انڈونیشیا سے یارن اور کپڑے کی درآمد پر 15 فیصد تک ڈیوٹی عائد کی جائے کیونکہ اس سے مقامی صعنت کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ وہ بند ہو رہی ہیں۔ وزیر خزانہ اسحق ڈار نے یارن اور فیبرک پر 10 فیصد ڈیوٹی کے علاوہ پولیسٹر پر بھی ڈیوئی لگانے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔‘

طارق سعود نے کہا ہے کہ ہماری انڈسٹری کے مسائل پہلے سے کافی زیادہ تھے تاہم اب ملک میں کپاس کی فصل بھی معمول سے بہت کم ہوئی ہے اور رواں سیزن میں یہ تقریباً ایک 48 لاکھ گانٹھوں سے کم ہو کر 97 لاکھ رہ گئی ہیں اور یہ بدترین صورتحال ہے۔ کپاس کی پیدوار میں کمی کی وجہ سے اس برس ترقی کے لیے معین کردہ ہدف بھی حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت سے اس طرف پر توجہ دینے کی درخواست کی ہے۔

خیال رہے کہ ملک میں کپاس کی کم فصل کی وجہ سے رواں مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح کا طے کردہ ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا ہے۔

اسی بارے میں