کابل کے حکم پر انگور اڈہ سرحدی گیٹ تین دن سے بند

Image caption افغان حکام سے بات کی گئی ہے تاہم انھوں نے یہ کہہ کر گیٹ کھولنے سے انکار کردیا کہ انہیں کابل کی طرف سے ابھی تک اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے افغانستان کے حوالے کی جانے والی پاک افغان سرحدی چوکی انگور اڈہ گذشتہ تین دنوں سے بند ہے جس سے سرحد کے دونوں جانب سینکڑوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

* جنوبی وزیرستان کی چوکی افغان حکام کے حوالے

* طورخم پر سخت چیکنگ، مسافروں کو مشکلات

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ ظفر الاسلام نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اتوار کو سرحدی چیک پوسٹ انگور اڈہ افغان حکومت کے حوالے کی گئی تھی جس کے بعد سے کابل کی طرف سے گیٹ کے دونوں طرف آمد و رفت بند کر دی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے افغانستان جانے والے افراد پر کوئی پابندی نہیں لیکن وہاں سے لوگوں کا داخلہ بند ہے۔

سرکاری افسر کے مطابق اس ضمن میں سرحد پر تعینات افغان حکام سے بات کی گئی ہے تاہم انھوں نے یہ کہہ کر گیٹ کھولنے سے انکار کردیا کہ انہیں کابل کی طرف سے ابھی تک اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

تاہم دوسری طرف مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کا دعوی ہے کہ پاکستان نے اس کے سرحدی علاقے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور جب تک اس پر بات نہیں کی جاتی گیٹ نہیں کھولا جائے گا۔

Image caption افغان حکومت ماضی میں بھی انگور اڈہ اور اس کے ساتھ واقع پاکستانی علاقے پر دعویداری ظاہر کرتی آئی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات اس چیک پوسٹ پر کشیدگی بھی رہی ہے

ذرائع کے مطابق کابل حکومت انگور اڈہ چیک پوسٹ سے پاکستان کی حدود کے اندر تک تقریباً آدھا کلومیٹر علاقے پر دعوی کرتی رہی ہے۔ تاہم پولیٹکل ایجنٹ نے افغان حکومت کے اس دعوے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

یاد رہے کہ افغان حکومت ماضی میں بھی انگور اڈہ اور اس کے ساتھ واقع پاکستانی علاقے پر دعویداری ظاہر کرتی آئی ہے جس کی وجہ سے اکثر اوقات اس چیک پوسٹ پر کشیدگی بھی رہی ہے۔ کئی مرتبہ دونوں طرف کی افواج نے ایک دوسرے پر گولہ باری بھی کی جس میں ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔

ادھر جنوبی وزیرستان کے مقامی قبائل نے سرحدی چیک پوسٹ افغان حکومت کو حوالے کرنے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں ان کی طرف سے سرحدی علاقے میں احتجاج بھی کیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انگور اڈہ کے اردگرد علاقے میں سینکڑوں پاکستانی تجارت کرتے ہیں جو اب اس فیصلے کے بعد افغان علاقے میں شمار ہوں گے۔

قبائل کے مطابق وہ نہیں چاہتے کہ ان کی پاکستانی شہریت ختم ہوجائے لہٰذا اس فیصلے کو فوری طورپر واپس لیا جائے۔

خیال رہے کہ انگور اڈہ جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا سے تقریبًا 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس سرحدی مقام کے دونوں جانب برمل کا علاقہ واقع ہے جہاں احمدزئی وزیر قبائل آباد ہیں۔ اس علاقے پر افغان حکومت کی طرف سے ماضی میں دعوی ظاہر کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث یہاں اکثر اوقات کشیدگی رہی ہے۔

تاہم اس تناؤ میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب پاکستان کی طرف سے یہاں باقاعدہ سرحدی گیٹ بنایا گیا جس کے بعد یہ گیٹ چند ماہ تک افغان حکومت کی طرف سے بند کردیا گیا تھا۔ تاہم افغان حکومت کی مسلسل مطالبے کے بعد یہ سرحدی چیک پوسٹ ان کے حوالے کردی گئی۔

اسی بارے میں