’اثاثوں کی ضبطگی‘ کا معاملہ، فوج سے جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل راحیل شریف سے رابطہ کیا گیا انھوں نے درخواست یہ کہہ کر خارج کر دی کہ ریٹارئڑ میجر جنرل کا کوئی کیس نہیں بنتا

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے پاکستانی فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ ریٹائرڈ میجر جنرل احسن کے نو کروڑ روپے کی ملکیت کے اثاثوں کو ’غیر قانونی طور پر‘ ضبط کرنے کے سلسلے میں پندرہ دن کے اندر اندر جواب داخل کرے۔

ریٹائرڈ میجر جنرل احسن الزام لگاتے ہیں کہ سنہ 2002 میں فوجی سربراہ پرویز مشرف کی نگرانی میں ہونے والے عام انتخابات میں انھوں نے ’پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خلاف دھاندلی کرنے سے انکار کر دیا جس کی نیتجے میں ان کی جائیداد ضبط کر لی گئی تھی۔‘

میجر جنرل احسن 1999 میں فوج سے ریٹائر ہوئے تھے۔ اسی سال پرویز مشرف کے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہونے کے ایک مہینے بعد ریٹائرڈ میجر جنرل احسن کو ڈی جی ہیلتھ مقرر کر دیا گیا جس کے چند مہینوں بعد ہی انھیں سندھ میں وزیر برائے ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ویلفیئر تعینات کر دیا گیا۔

ان کے وکیل ریٹائرڈ کرنل انعام کا کہنا ہے ’جب الیکشن کا وقت آیا تو پرویز مشرف کی جانب سے انتحابات میں دھاندلی کا حکم آیا۔ انھیں کہا گیا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو ایم کیو ایم کے ہاتھوں ہرانا ہے۔ لیکن ریٹارئڑ میجر جنرل احسن نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور مستعفی ہو گئے۔‘

ریٹائرڈ کرنل انعام کا دعویٰ ہے کہ ’ریٹائرڈ میجر احسن کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کبھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور چھ ماہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد فوج کے پاس کوئی اختیار نہیں رہتا کہ وہ افسر کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرئے۔ قانون کے مطابق چھ ماہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد فوج کسی بھی افسر کی بغیر وجہ جائیداد ضبط نہیں کر سکتی۔ اس کی اجازت آئین بھی نہیں دیتا۔‘

اس سلسلے میں بی بی سی نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

عدالت نے مقدمہ کی سماعت ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں