’ٹیکو‘ بچوں کی زندگی بچانے میں مددگار

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption آغا خان فاؤنڈیشن نے یہ موبائل ٹیلیفون ایپ، ’ٹیکو‘ تیار کیا ہے

صوبہ سندھ کے شہر ٹنڈو محمد خان سے 50 کلومیٹر دور واقع گوٹھ عالی جھرک کے ایک مکان میں جمع ہونے والی خواتین کی گودوں میں بچے جبکہ ہاتھوں میں گلابی رنگ کے کارڈ ہیں۔

نہر کنارے واقع اس مکان میں دو ویکسینیٹر موجود ہیں، جن میں سے ایک ویکسین دے رہا ہے جبکہ دوسرا موبائل فون کی مدد سے اس کی تفصیلات اور تصویریں لینے میں مصروف ہے۔

ان ویکیسنیٹرز کی نگرانی بعض ایسے لوگ بھی کر رہے ہیں جو عملی طور پر وہاں موجود نہیں بلکہ ضلعی اور صوبائی دارالحکومت میں کمپیوٹر سکرین کے سامنے بیٹھے جدید نظام کے ذریعے تمام معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

یہ سب کچھ ’ٹیکو‘ ایپ کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک نے یہ موبائل فون ایپ تیار کی ہے اور اس ایپ اور موبائل میں موجود جی پی ایس کے ذریعے ویکسینیٹرز کی نقل وحرکت کے علاوہ بچوں کی تعداد اور ویکسین کے دستیابی کی، ضلعی اور صوبائی سطح پر نگرانی کی جاسکتی ہے۔

حکومت سندھ کے تعاون سے یہ پائلٹ پروجیکٹ سندھ کے ضلع ٹنڈو محمد خان میں جاری ہے۔

ویکسینیٹر عمران شاہ کا کہنا ہے کہ اس ایپ کی وجہ سے اب ان کے اہداف مکمل ہو رہے ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ بھی تیار ہو رہی ہے، اس سے قبل جس روز ماہانہ رپورٹ جمع کرانا ہوتی تھی اسی روز یہ اعدادوشمار اکٹھے کیے جاتے تھے۔

Image caption خواتین کو اب صحت کے مراکز پر جاکر ویکسین لینے کے بجائے گھر پر ہی سہولت دستیاب ہے

ای پی آئی کے مطابق پاکستان میں سالانہ لاکھوں بچے ویکسینیشن سے محروم رہ جاتے ہیں، اس کی وجہ سہولیات کا فقدان اور اس عمل کی نگرانی کا نہ ہونا بتایا جاتا ہے، مگر اب صورتحال بدلنے لگی ہے۔

ان ویکسینیٹرز کو یومیہ الاؤنس اور پیٹرول کے پیسے بھی دیے جاتے ہیں تاکہ وہ ہر جگہ آسانی سے پہنچ سکیں۔ عمران شاہ کے مطابق یہ گاؤں عالی جھرک مرکزِ صحت سے تقریباً 18 کلومیٹر دور ہے اور ان سہولیات کی وجہ سے وہ یہاں پہنچے ہیں۔

’پہلے ہمیں تین ماہ کے لیے ڈی ایچ او کی جانب سے سوزوکی پک اپ دی جاتی تھی، جس کی مدد سے ویکسینیشن کرتے اور باقی دن فارغ ہوتے اگر کسی نے بچوں کو ویکسینیشن کرانی ہوتی تھی وہ بچے کو صحت مرکز پر لے جاتا اور ہم صرف صحت مرکز کے پانچ کلومیٹر دائرے میں کام کرتے تھے۔‘

ٹیکو پروجیکٹ کی سربراہ اور آغاخان یونیورسٹی کے وومن اینڈ چائلڈ ہیلتھ ڈویژن کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شہلا زیدی نے عمومی حفاظتی ٹیکوں کی شرح میں کمی کا سبب احتسابی عمل کے فقدان کو قرار دیا ہے ۔

’بچوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے دوران بھی ویکسینیشن سے محروم رکھا جاتاہے، ویکسینیٹرز کی جانب سے گاؤں کے انتہائی کم دورے کیے جاتے ہیں، اس کے علاوہ عمومی حفاظتی ٹیکوں کے متعلق بیداری کے لیے طبی عملے کے اقدامات ناکافی ہیں۔ حفاظتی ٹیکوں کے ذریعے ہیپاٹائٹس بی، نمونیا انفیکشنز، خناق، تشنج اور کالی کھانسی سے بھی بچاؤ ہوتاہے۔‘

Image caption ٹنڈو محمد خان میں پائلٹ پروجیکٹ جاری ہے

گوٹھ عالی جھرک میں بھوری نامی خاتون کے دو بچوں کی ویکسینیشن کی گئی ہے، لیکن ماضی میں ان کے چار بچے اس سے محروم رہ گئے تھے۔

’صحت مرکز یہاں سے 18 کلومیٹر دور ہے جہاں تک ایک آدمی کا کرایہ کم از کم بھی سو روپے لگ جاتا ہے اس لیے وہاں کوئی کوئی ہی جاتا تھا، اب گذشتہ ایک سال سے ویکسینیٹر ہر مہینے آتے ہیں اور ویکسینیشن لگا جاتے ہیں۔ وہ فون نمبر بھی لے کر جاتے ہیں اور فون کر کے معلوم کرتے ہیں کہ کیا آپ کے بچے کو ٹیکے لگے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ ہاں لگے ہیں۔‘

فیلڈ کے علاوہ بنیادی مراکز صحت میں بھی ویکسینیٹرز کو اس موبائل ایپ کے استعمال کی تربیت دی گئی ہے۔

ٹیکو ایپ میں ڈیٹا انٹری کے لیے بچے کی تصویر اور مکمل تفصیل لازمی ہے، جس کے بغیر ویکسینیشن کا عمل نامکمل تصور کیا جائے گا۔

ٹنڈو محمد خان کے محکمہ صحت کے حکام تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیکو پروگرام کے باعث ویکسینیشن کی شرح میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس پائلٹ پروجیکٹ میں اب صرف چند ماہ باقی رہ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ b
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ اس پروجیکٹ کے اثرات نظر آ رہے ہیں

ضلعی صحت افسر چندر لال گومانی کا کہنا ہے کہ اب انھیں روزانہ کی بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ کتنی اور کہاں کہاں ویکسینیشن کی جا رہی ہے۔

’ہم دفتر میں بیٹھ کر بھی اس کی تصدیق کر سکتے ہیں اور اب فیلڈ میں جانا نہیں پڑتا، اس سے پہلے ہم ہر بچے کی تصدیق بھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہ ممکن نہیں تھا۔‘

ٹیکو جیسے منصوبے کو صوبائی سطح پر جاری رکھنا یا مسترد کرنا اب حکومت سندھ کی صوابدید پر ہے، تاہم ماہرین کے مطابق بروقت ویکسینیشن سے محکمہ صحت کے اخراجات اور بچوں کی شرح اموات دونوں میں ہی کمی لائی جا سکتی ہے۔

ضلعی صحت افسر چندر لال گومانی کا کہنا ہے کہ انھوں نے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک سے درخواست کی ہے کہ ایک سال مزید اس منصوبے کو چلایا جائے۔

ان کے مطابق اگر وہ یہ منصوبہ تمام آلات اور سہولیات کے ساتھ ان کے حوالے کرتے ہیں تو محکمہ صحت اس کو چلا سکتا ہے، باوجود اس کے کہ کہیں کہیں انٹرنیٹ یا موبائل کے سگنلز کے مسائل ہیں جس کی وجہ سے فوری ڈیٹا اپ لوڈ نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں