جماعت الدعوۃ القران اور طارق گیدڑ دہشتگرد فہرست میں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی وزارت خارجہ نے طارق گیدڑ گروپ اور جماعت الدعوۃ القران کو عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ان تنظیموں پر پابندیاں عائد ہوں گی۔ یہ پابندیاں ان تنظیوں پر عائد کی جاتی ہیں جو دہشت گردی کرنے پر آمادہ ہوں یا جن سے دہشت گردی کا خطرہ ہو، یا وہ امریکی خارجہ کی پالیسی، معیشت اور امریکی شہریوں کے لیے خطرہ ہوں۔

٭افغان طالبان کا پاکستان سے مجبوری کا رشتہ مزید مجروح

ان پابندیوں کے نتیجے میں امریکی عملداری میں آنے والی تمام جائیدادیں جن کا تنظیموں سے تعلق ہو گا ان کو ضبط کیا جا سکے گا اور ان تنظیموں سے امریکی شہریوں کے رابطے رکھنے پر بھی پابندی ہو گی۔

طارق گیدڑ گروپ تحریک طالبان پاکستان کا ایک ذیلی گروہ ہے اور اس کا گڑھ درہ آدم خیل پاکستان ہے۔ طارق گیدڑ گروپ دہشت گردی کی کئی بڑی بڑی وارداتوں میں ملوث رہا ہے جن میں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ بھی شامل ہے جس میں 132 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔یہ پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا بدترین واقع تھا۔ اس گروہ کا سرغنہ عمر منصور جنوری دو ہزار سولہ میں خیبر پختونخوا میں چارسدہ یونیورسٹی پر حملے کا منصوبہ ساز تصور کیا جاتا ہے۔ اس حملے میں بھی بیس افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں یونیورسٹی میں زیر تعلیم نوجوان بھی شامل تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

اس کے علاوہ یہ گروپ سنہ دو ہزار دس میں ایک برطانوی اخبار نویس کو شمالی وزیرستان سے اغوا کرنے کی واردات میں بھی ملوث تھا۔ اسی گروپ نے پولینڈ کے ایک جغرافیہ داں کو بھی اٹک سے اغوا کرکے اس کا سر قلم کیا تھا۔

جماعت الدعواۃ القران شدت پسند گروہ پاکستان کے شہر پشاور اور مشرقی افغانستان میں سرگرم ہے۔ اس گروپ نے سنہ دو ہزار دس میں طالبان کے سابق امیر ملا عمر کے ہاتھوں پر بیعت کر لی تھی اور اس کے القاعدہ اور لشکر طیبہ سے بھی پرانے مراسم ہیں۔ یہ گروپ بھی دہشت گردی کی بہت سے وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ اس نے ایک برطانوی امدادی کارکن لنڈا نورگرو کو بھی افغانستان کے علاقے کنڑ سے اغوا کر لیا تھا۔

وزارت خارجہ کے اعلان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔ شدت پسندوں کے تنظیموں کے خلاف اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کرنا امریکہ کے ہاتھ میں یہ ایک اہم اور موثر حربہ ہے۔

وزارت خارجہ کے اس اقدام سے امریکہ عوام اور بین الاقوامی برداری پر واضح ہو گیا ہے کہ مذکورہ گروہ دہشت گرد گروپ ہیں۔ عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جانے سے ان گروپوں کو تنہا کر کے ان کے خلاف اقدامات کیے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں