ڈرون حملے پر آرمی چیف کا ’شدید تشویش‘ کا اظہار

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے اور اس طرح کے واقعات سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق آرمی چیف نے یہ بات بدھ کو پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل کے ساتھ ملاقات میں کہی۔

٭ ’شہادتوں کے بغیر ملا منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے‘

بیان کے مطابق جنرل ہیڈکوارٹر راولپنڈی میں ہونے والی اس ملاقات میں 22 مئی کو بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات سے نہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بلکہ خطے میں امن اور استحکام کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جنرل راحیل شریف نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کی مثال نہیں ملتی۔

خیال رہے کہ امریکی اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ 22 مئی کو نوشکی کے قریب ہونے والے اس ڈرون حملے میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کو ہلاک کیا گیا ہے۔

افغان طالبان نے بھی اپنے رہنما کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سائنسی اور قانونی شہادتوں کے بغیر ملا منصور کی بلوچستان میں ہونے والے ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتی۔

اس سلسلے میں پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے منگل کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس بھی منعقد کی تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس سے قطع نظر کے ڈرون حملے میں مارا جانے والا شخص کون تھا، یہ حملہ پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی تھا اور حکومت اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی لندن سے واپسی پر باقاعدہ ردعمل دیا جائے گا اور اس سلسلے میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں