ملا منصور: اسرار کے سائے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پاسپورٹ پر جو پتے لکھے ہوئے ہیں وہاں رہنے والے لوگ ولی محمد کو نہیں جانتے

طالبان کے سربراہ ملا منصور کے بارے میں جس قدر تفصیلات سامنے آتی جا رہی ہیں، ان کی شخصیت اسی قدر پراسرار تر ہوتی جا رہی ہے۔

امریکی اور افغان حکام کہتے ہیں کہ ملا منصور کو بلوچستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔ لیکن جائے وقوعہ پر جو پاسپورٹ ملا اس پر ولی محمد کا نام درج تھا، جو شاید ان کا فرضی نام تھا۔

ان کی زندگی کے بارے میں ملنے والے ہر سراغ کا خاتمہ کسی بند گلی میں جا کر ہوتا ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان نے ان کی زندگی کی ایک ٹائم لائن شائع کی ہے، جس کے مطابق انھوں نے سنہ 2006 کے بعد سے 19 دفعہ دبئی کا سفر کیا۔

افغان میڈیا کے مطابق کچھ عرصہ قبل ملا منصور نے دبئی میں کاروبار شروع کیا تھا۔ غالباً اس کاروبار کے لیے منشیات سے حاصل شدہ رقوم استعمال کی گئی تھیں۔

حیرت انگیز طور پر انھوں نے اس سال ایران کے کم از کم دو چکر لگائے، اور دونوں مرتبہ وہ بلوچستان کی ایک سرحدی گزرگاہ سے ایران گئے۔ ہفتے کوجب انھیں ڈرون کا نشانہ بنایا گیا اس وقت وہ اپنے حالیہ دورے میں ایران سے واپس آ رہے تھے۔

ملا منصور کے سفرِ ایران سے کئی حلقوں میں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے کیوں کہ ایران میں شیعوں کی اکثریت ہے جنھیں طالبان کافر سمجھتے ہیں۔ ایران اس بات کی تردید کرتا ہے کہ ملا منصور کبھی وہاں گئے تھے۔

اس بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ایرانی طالبان کی پشت پناہی کرنا چاہتے ہیں تاکہ زیادہ سخت گیر دولتِ اسلامیہ کو افغانستان سے باہر رکھا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بعض لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ اس قدر مسخ شدہ کار میں سے برآمد ہونے والا پاسپورٹ صحیح سلامت کیسے بچ نکلا

بعض دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ طالبان ایران تعلقات کی وجہ دراصل پاکستانی فوج اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔

صحیح سلامت پاسپورٹ

ڈان اخبار نے جو ٹائم لائن دی ہے وہ ملا منصور (یا ولی محمد) کے پاسپورٹ سے حاصل کی گئی ہے جو میزائل حملے کے بعد تباہ شدہ کار سے ملا تھا۔

حیرت انگیز طور پر ان کا پاسپورٹ اور پاکستانی شناختی کارڈ اس بری طرح سے مسخ اور جلی ہوئی کار سے بےداغ حالت میں نمودار ہوئے۔ ممکن ہے وہ کسی طرح دھماکے کے بعد کہیں دور جا گرے ہوں۔

ان کے علاوہ کسی اور چیز کے سلامت بچ نکلنے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ ان کے مطابق جس شخص کو امریکی صدر براک اوباما نے ملا اختر منصور قرار دیا، وہ دراصل پاکستانی شہری ولی محمد تھا۔

پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تصاویر سب سے پہلے بلوچستان میں قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے وٹس ایپ اکاؤنٹ پر سامنے آئیں۔ اس سے بعض لوگوں نے شبہ ظاہر کیا کہ شاید اس کا مقصد اس حملے کے بارے میں شکوک و شبہات کو جنم دینا ہے۔

بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان دونوں دستاویزات پر اس ہولناک حملے کا کوئی نشان نہیں ہے۔

بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بظاہر یہ تصاویر ان دستاویزات کو کسی میز پر رکھ کر لی گئی ہیں، جب کہ ادارے کا دعویٰ تھا کہ انھیں جائے واردات ہی پر حاصل کیا گیا تھا۔

دونوں دستاویزات پر ان کے حامل کنندہ کا مستقل اور حالیہ پتہ درج ہے۔ کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے مطابق وہ قلعہ عبداللہ کے رہائشی ہیں، لیکن جیو ٹی وی کے ایک رپورٹر کے مطابق انھیں یا ان کے نصف درجن بچوں کو قلعہ عبداللہ میں کوئی نہیں جانتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ولی محمد کی لاش کون لے گیا، اس بات پر بھی ابہام برقرار ہے

مزید یہ کہ ان کے کراچی والے پتے پر بھی انھیں کوئی نہیں جانتا۔ بی بی سی کے ایک رپورٹر ان کے پتے پر درج فلیٹ پر گئے تو وہاں مقیم شخص نے بتایا کہ انھوں نے فلیٹ کے مالک کو کبھی نہیں دیکھا۔

دوسرے لوگوں نے بتایا کہ فلیٹ کا مالک سنہ 2010 سے پہلے وہاں آیا کرتا تھا اور شکل و صورت اور لباس سے افغان لگتا تھا۔ وہ ایک ایس یو وی گاڑی میں آتا تھا اور اس کے ساتھ محافظوں کا ایک دستہ ہوا کرتا تھا جو افغانی لگتے تھے۔

بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نادرا کا جعلی شناختی صرف سرکاری ملی بھگت ہی سے جاری ہو سکتا ہے۔

جب بی بی سی نے نادرا سے ولی محمد کی شناخت کے بارے میں استفسار کیا تو انھوں نے مشورہ دیا کہ اس سلسلے میں ’وزارتِ داخلہ سے رابطہ کیا جائے کیوں کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے۔‘

لاش کون لے گیا؟

لاش کی ہسپتال میں موجودگی کے بارے میں بھی ابہام ہے۔

ڈرون حملہ ہفتے کو سہ پہر تین بجے ہوا۔ اس شام دو لاشیں کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں پہنچائی گئیں۔ ایک لاش محمد اعظم نامی ایک شخص کی تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گاڑی کا ڈرائیور تھا۔ اس لاش کو فوراً ہی رشتہ دار آ کر لے گئے۔

دوسری لاش وہیں پڑی رہی۔

اتوار کی شام ہسپتال کے عملے نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ کسی شخص نے اپنے آپ کو محمد رفیق کہتے ہوئے فون کیا اور کہا کہ وہ ولی محمد کا بھانجا ہے اور وہ ان کی لاش ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ البتہ وہ ہسپتال نہیں پہنچا۔

پیر کی شام بلوچستان کے وزیرِ داخلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ لاش ابھی تک ہسپتال میں ہے۔

لیکن منگل کی صبح کوئٹہ میں بی بی سی کے نامہ نگار کو ہسپتال کے کاغذات دکھائے گئے جن کے مطابق لاش اتوار ہی کو رفیق کے حوالے کر دی گئی تھی۔

نامہ نگار کو لاش کی حوالگی کی رسید بھی دکھائی گئی۔ اس رسید پر محمد رفیق کے دستخط تھے۔ نیچے ان کا موبائل فون درج تھا جس کے آٹھ ہندسے تھے۔ پاکستان میں موبائل فون کے سات ہندسے ہوتے ہیں۔

اس نمبر پر کال کرنے کی کوششیں ناکام رہیں۔

اسی بارے میں