’افغان طالبان کا پاکستان سے مجبوری کا رشتہ مزید مجروح‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملا منصور بلوچستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے

افغان طالبان کے امیر ملا محمد اختر منصور کی پاکستانی سرزمین پر ہلاکت کے بعد افغانستان میں قیام امن اور مصالحتی عمل کے بارے میں امید اور کم ہو گئی ہے۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر اور افغان امور کے ماہر رستم شاہ مہمند کے مطابق افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قائم کیے جانے والے چار ملکی گروپ میں امریکہ بھی شامل تھا اور اسی نے طالبان کے امیر کو ڈرون حملے میں ہلاک کیا ہے۔

* ملا ہبت اللہ: ’کم جنگی تجربے کے حامل مذہبی رہنما‘

رستم شاہ کے مطابق افغان قیادت میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اس پس منظر میں مذاکرات کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ مستقبل میں اگر افغان حکومت اور امریکہ طالبان کی اپنے قیدیوں کی رہائی سمیت دیگر بنیادی شرائط کو پہلے پورا کرتا ہے تو شاید بات چیت کا سلسلہ اسی صورت میں دوبارہ شروع ہو سکے کیونکہ طالبان کے نئے امیر ہبت اللہ سخت گیر رہنما سمجھے جاتے ہیں۔

افغان امور کے مطابق رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان پر اثرو رسوخ پہلے ہی محدود تھا اور اب مزید کم ہو جائے گا۔ اب امریکہ پاکستان سے کہہ سکتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اس میں ایک رکاوٹ ملا منصور کو اس نے راستے سے ہٹا دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ملا منصور کو امیر منتخب ہونے سے پہلے مصالحت کا حامی سمجھا جاتا تھا‘

رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق انھیں امریکہ کے اس دعوے پر کہ ملا منصور مذاکرات کے حق میں نہیں تھے، یقین نہیں ہے کیونکہ مذاکرات نہ کرنے کا فیصلہ پوری شوریٰ کا تھا جس میں موجودہ امیر ہیبت اللہ اور ان کے نائیبن ملا یعقوب اور سراج الدین حقانی بھی شامل تھے۔

’اس صورتحال میں پاکستان کا کام اور بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ پہلے بھی اثرو رسوخ محدود تھا اور اب پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ افغان طالبان کو بات چیت کے لیے کس حد تک مجبور کر سکتا ہے یا ان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے کیونکہ ان میں سے( طالبان قیادت) میں سے اکثر پاکستان میں ہی ہیں۔‘

رحیم اللہ یوسفزئی کے مطابق پاکستان کے لیے بڑی مشکل صورتحال ہے کیونکہ اگر افغان طالبان کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو سب اس کے مخالف ہو جائیں گے۔

رستم شاہ نے بھی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان طالبان کو ایک حد سے زیادہ بات چیت پر مجبور نہیں کر سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان طالبان کے نئے امیر کے اعلان کے دن کابل میں ہونے والے دھماکے میں دس افراد ہلاک ہو گئے

’اگر آپ کسی کو مجبور کر کے مذاکرات کے لیے آمادہ کریں تو اس کے نتائج اچھے نہیں آتے ہیں۔ یہ پاکستان کی پالیسی پر منحصر ہے کہ وہ افغان نفسیات کو کتنا سمجھتا ہے اور اس کو سامنے رکھتے ہوئے کیسے اپنی پالیسی مرتب کرتا ہے کیونکہ ماضی کی پالیسیوں کا الٹا اثر ہوا۔`‘

رستم شاہ مہمند نے اس جانب توجہ دلائی کہ طالبان کے امیر پاکستانی سرزمین پر ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات بھی ہوں گے جس میں اب دیکھنا ہے کہ پاکستان اس صورتحال سے کیسے نمٹتا ہے۔

افغانستان کے سینیئر صحافی اور ٹی وی چینل کابل نیوز کے ڈائریکٹر نیوز غلام جیلانی زواک کے مطابق’افغان طالبان کا پاکستان سے اعتماد نائن الیون کے بعد سے مجروح ہو گیا تھا اور اب دونوں کے درمیان اعتماد کے بجائے مجبوری کا رشتہ ہے جس میں طالبان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام پاکستان میں ہے جبکہ پاکستان انھیں دفاعی مقاصد کے لیے سٹریٹیجک اثاثہ سجھتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AIP
Image caption افغان طالبان نے مولوي ہبت اللہ اخونزادہ کو نیا رہنما مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے

انھوں نے کہا کہ’پاکستان میں ملا عمر کی مبینہ طبی موت پر سوالات تھے، اب ملا منصور کی ہلاکت کے بعد یہ اعتماد مزید مجروح ہو گا کیونکہ یہاں نہ صرف افغان طالبان بلکہ دیگر حلقوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ملا منصور طالبان دھڑوں کو متحد نہیں کر سکے اس وجہ سے اس نے امریکہ سے مل کر اسے ختم کر دیا۔‘

بات چیت کے سوال پر غلام جیلانی زواک نے کہا کہ طالبان کے کسی بھی نئے امیر کے لیے شروع میں ہی امن بات چیت کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ دہائیوں سے طالبان جنگجوؤں کو’جہاد‘ کی ترغیب دے کر انتہا کے شدت پسند واقعات میں ملوث کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نئی قیادت کے لیے مشکل ہوتا ہے کہ وہ صلح کی بات کریں۔ اس وجہ سے اب ایک عرصے تک بات چیت ہونا مشکل ہے۔‘

اس پر رستم شاہ نے کہا کہ پاکستان کو افغان حکومت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کیونکہ’بعض اوقات ہم ایسی حرکتیں کرتے ہیں جس کا الٹا نقصان ہوتا ہے اور اگر معاملے کو معمول کے مطابق اگلے بڑھنے دیا جائے تو یہ پاکستان کے لیے اور خطے میں دیر پا امن کے لیے فائدہ مند ہو گی۔‘

اسی بارے میں