’مشروط امداد کا مقصد پاکستان پر دباؤ ڈالنا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سینیٹ کی کمیٹی نے پاکستان کو دی جانے والی امداد میں سے 30 کروڑ ڈالر حقانی نیٹ ورک سے مشروط کیے ہیں

امریکہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔

امریکی سینیٹ کی مسلح سروسز کی کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے قائم کولیشن سپورٹ فنڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد پاکستان کی اس جنگ میں مدد کے لیے ایک نیا فنڈ قائم کیا ہے۔

* ’پاکستانی خود مختاری مقدم مگر، جنگ کرنے والے نشانے پر ‘

80 کروڑ ڈالر کے اس فنڈ میں پاکستان کو افغانستان میں جاری جنگ سے الگ کیا گیا ہے اور ساتھ میں دی جانے والی امداد میں سے 30 کروڑ ڈالر کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کر دیا ہے جبکہ باقی امداد پاکستان کی اندرونی سلامتی اور استحکام سے متعلق ہے۔

مسلح سروسز کی کمیٹی کی جانب سے منظور کیے جانے والے سینیٹ کے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ میں پاکستان کے لیے فنڈ بھی شامل ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مدد کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ سے رقم ادا کی جاتی رہی ہے لیکن اب اس فنڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں پاکستان کے لیے الگ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

امریکہ کو دفاعی بجٹ میں پاکستان کو افغانستان سے الگ کرنے پر تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے بتایا کہ امریکی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ افغان حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف اپنے طور پر کارروائیاں کر سکے اس لیے انھوں نے پاکستان کو اس سے الگ کیا ہے تاکہ وہ اس پر دباؤ ڈال سکیں کہ وہ ان گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرے۔

’اب غالباً ان کی حکمت عملی ہے کہ وہ پاکستان کو مجبور کریں کہ وہ افغان طالبان کے بارے میں سخت پالیسی اپنائے کیونکہ یہ پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں جس کا ثبوت ملا اختر منصور کی ہلاکت ہے۔ اس کے لیے امریکہ پاکستان پر دباؤ رکھے گا کیونکہ اس کے نزدیک صرف افغان حکومت طالبان کو کنٹرول نہیں کر سکتی ہے۔‘

کیا امریکہ پاکستان سے دور ہوتا جا رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ امریکہ ابھی پاکستان سے نوے کی دہائی کے طرح تعلقات کو بہت زیادہ محدود نہیں کرے گا اور وہ پاکستان پر دباؤ رکھے گیے کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا گیا تو اس صورت میں وہ طالبان کے ساتھ پوری طرح سے مل جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی کانگریس نے پاکستان کو ایف سولہ جہازوں کی خریداری میں مالی مدد پر پابندی لگائی ہے

امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف اقدامات کے مطالبے میں شدت اور امداد میں کمی کیا پاکستان کے چین کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ کی وجہ سے ہے؟ اس پر ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ پاکستان پر اس وقت زیادہ دباؤ افغانستان کے حوالے سے ہے لیکن ’پاکستان اس وقت تنہائی کی جانب جا رہا ہے اس اپنی خارجہ پالیسی میں وسعت لانے کی کوشش کرنی چاہیے بجائے اس کہ اب امریکہ کی گود سے نکل کر پوری طرح چین کی گود میں جا بیٹھے۔ اس وقت چین بھی پاکستان کو اس لیے برداشت کر رہا ہے کیونکہ اسے گودار کی ضرورت ہے اور باقی سب پاکستان پر شک کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اب پاکستان کو سوچنا پڑے گا کہ آخر دنیا اس کے خلاف کیوں ہے؟ سوال یہ ہے کہ دنیا کو اور بھی بڑے کام ہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ پاکستان سے اتنے ناراض نظر آتے ہیں اور شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

اسی بارے میں