بلوچستان سے ’چھ افغان جاسوس گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بلوچستان کے وزیرِ دا خلہ میر سر فراز بگٹی نے صوبے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں مبینہ طور پر ملوث افغان خفیہ ادارے (این ڈی ایس) کے ایک مبینہ نیٹ ورک کو توڑنے اور اس کے چھ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سول سیکریٹیریٹ کوئٹہ میں فرنٹیئر کور بلوچستان کے حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ این ڈی ایس کے گرفتار اہلکاروں نے 40 سے زائد شہریوں کو ہلاک کیا۔

٭ بلوچستان: مبینہ افغان انٹیلیجنس اہلکار کی گرفتاری کا دعویٰ

٭ بلوچستان سے انڈین ایجنسی را کا افسر گرفتار‘

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ہونے وا لے تمام افراد کو ئٹہ اور چمن میں ہو نے والی متعدد تخریبی کارروائیوں میں ملو ث تھے۔

صوبائی وزیرِ داخلہ نے دعویٰ کیا کہ این ڈی ایس کے جنرل مومن، جنرل نعیم بلوچ اور جنرل (ریٹائرڈ ) مالک یہاں مبینہ دہشت گردی کی کارروائیوں کی نگرانی کرتے تھے۔

سرفراز بگٹی نے الزام عائد کیا کہ افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کا ایک سیٹلائیٹ ہے اور وہ دونوں بلوچستان کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ اہلکار افغان مہاجرین کی آڑ میں کارروائیاں کرتے تھے جس کی وجہ سے بلوچستان میں حالات خراب ہیں۔

سرفراز بگٹی نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ افغان مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنائیں۔

ان کا کہنا تھا ’افغان مہاجرین کو جانا پڑے گا، وہ عزت سے نکل جائیں ورنہ یہاں کے بلوچ پشتون اور دیگر قبائل کے لوگ انھیں خود باہر نکال دیں گے۔

صوبائی وز یرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان کے سا تھ برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں تاہم اگر افغانستان کی جا نب سے بلوچستان میں مداخلت کا سلسلہ بند نہ ہوا تو یہ اقدام دونوں مما لک کے تعلقا ت کو کشیدگی کی جانب دھکیل دے گا۔

واضح رہے کہ صوبہ بلوچستان کے سرکاری حکام نے گذشتہ ماہ افغان انٹیلیجنس کے ایک مبینہ اہلکار کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

بلوچستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور حکومت میں حالات خراب ہوئے تھے۔

سرکاری حکام بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار بعض قوم پرست قوتوں اور بیرونی ہاتھ بالخصوص انڈیا اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کو ٹھہراتے ہیں۔

بلوچستان کے بعض بلوچ قوم پرست حالات کی خرابی کا ذمہ دار وفاقی حکومت کی پالیسیوں بالخصوص بلوچستان کے وسائل کو وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف استعمال کرنے کو قرار دیتے ہیں۔

اسی بارے میں