بلوچستان: تین مغویوں کی لاشیں برآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے رواں مہینے کے وسط میں اغوا ہونے والے پانچ افراد میں سے تین کی لاشیں ملی ہیں جبکہ سکیورٹی فورسز نے اسی ضلع میں ایک سرچ آپریشن میں دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

* بلوچستان: ضلع آوران سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

* بلوچستان سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

جن تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں انھیں 15 مئی کو ضلع کیچ کے علاقے دشت سے اغوا کیا گیا تھا۔

ضلع کیچ کے علاقے دشت سے مجموعی طور پر پانچ افراد اغوا ہوئے تھے جن میں سرکاری حکام کے مطابق تین انجنیئر اور دو ٹھیکیدار تھے۔

اغوا ہونے والے انجنیئروں کا تعلق ضلع کیچ کے دو سرکاری محکموں سے تھا۔

کیچ میں انتظامیہ ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے تین افراد کی لاشیں کیچ اور گوادر کے سرحدی علاقے سانجی کے دشوار گزار علاقے سے برآمد کی گئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ ان کی ہلاکت گولی لگنے یا زخمی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بظاہر پیاس سے ہوئی۔

ان افراد کے اغوا کے بعد کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ رپبلکن آرمی کی جانب سے مقامی میڈیا کو جو بیان جاری کیا گیا تھا اس میں یہ دعویٰ کیاگیا تھا ان افراد کوتفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔

تاہم گذشتہ روز تنظیم کی جانب سے میڈیا کو جو دوسرا بیان جاری کیا گیا اس کے مطابق سانجی کے علاقے میں سکیورٹی فورسز کی آپریشن کے بعد ان افراد کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

تنظیم کے ترجمان کے مطابق اس علاقے میں کیمپ کا دفاع کرتے ہوئے ان کا ایک ساتھی ہلاک ہوا۔

ضلع کیچ ہی میں سیکورٹی فورسز نے ایک سرچ آپریشن میں دو افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق یہ سرچ آپریشن بالگتر کے علاقے میں کیا گیا جس میں میں ایک کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہلاک ہوئے جبکہ دو کو گرفتار کیا گیا۔

ترجمان کا کہنا ہے سرچ آپریشن میں ایف سی کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا اور آپریشن میں عسکریت پسندوں کے پانچ کیمپ بھی تباہ کر دیےگئے۔

اسی بارے میں