جعلی دستاویزات واپس کرو ورنہ سزا ہوگی: وزیر داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

پاکستانی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اگر کوئی سرکاری اہلکار جعلی دستاویزات تیار کرنے میں ملوث پایا گیا تو اسے 14 سال قید کی سزا دلوائی جائے گی۔

انھوں نے اسلام آباد میں نادرا ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جن لوگوں کے پاس جعلی دستاویزات ہیں وہ انھیں دو ماہ کے اندر اندر جمع کروا دیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو گی۔

اس کے علاوہ ایسے سرکاری اہلکار جنھوں نے جعلی دستاویزات بنانے میں مدد فراہم کی ہو، وہ ان کی نشاندہی کر دیں تو انھیں بھی سزا نہیں ہو گی۔

شناختی کارڈوں کی دوبارہ تصدیق کا حکم

تاہم دو ماہ کے بعد جعلی دستاویزات کا حامل کوئی شخص پکڑا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہو گی اور اسے سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ اگر کوئی اہلکار پکڑا گیا تو ’اسے صرف معطل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے لیے خبر اور بھی خوفناک ہے کہ اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جائے گا۔‘ وزیرِ داخلہ کے مطابق ایسے لوگوں کو 14 سال تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ملک کی عزت اور سلامتی کا مسئلہ ہے اور یہ بات کسی بھی ملک کے لیے ناقابلِ برداشت ہے کہ اس کی شہریت بیچی جائے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ تمام شناختی کارڈوں کی چھ ماہ کے اندر اندر دوبارہ تصدیق ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ میں ایک ہیلپ لائن شروع کر رہا ہوں جس پر کوئی بھی شخص جعلی شناختی دستاویزات کے حامل افراد کی نشاندہی کر سکتا ہے اور اگر ان کی خبر سچی نکلی تو انھیں انعام سے نوازا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی، جن میں ارکانِ پارلیمان کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے بھی شامل ہوں گے جو اس تمام عمل پر نظر رکھے گی کہ اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ولی محمد کا کیس اکیلا نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر کیس موجود ہیں جو پچھلے دس بارہ سالوں سے جاری ہیں، اور پچھلے ادوار میں دستاویزات ریوڑیوں کی طرح بانٹی گئیں۔

اسی بارے میں