خواجہ سرا کا جنازہ، ہیل فائر میزائل کا شور

تصویر کے کاپی رائٹ PA
سوشلستان ایک ایسی ہی ورچوؤل جگہ ہے جیسے پاکستان یا ہندوستان ہیں اور اس کے رہنے والے بھی پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں یا دنیا میں کہیں بھی رہنے والوں کی طرح ہیں۔مگر سوشلستان میں زمان و مکاں کی قیود سے نسبتاً آزادی ہے جسے پولیس کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور اب بھی جاری ہیں مگر کہیں نہ کہیں بات چل نکلتی ہے۔ٹوئٹر ہو یا فیس بُک، اظہار کے ذرائع وقت گزرنے کے ساتھ بدلے ہیں اور اب ایک اقلیتی فرقے کے فرد کا استحصال ہو یا کراچی کی سڑک پر کسی نوجوان کا قتل سوشلستان میں ایسے موضوعات پر بات کرنے کے لیے روایتی میڈیا کا تعاون درکار نہیں ہوتا۔سوشلستان میں شاہ اور فقیر سب برابر ہیں اور کسی وزیر یا مشیر کو مخاطب کرنے کے لیے پروٹوکول کا حصار آڑے نہیں آتا آپ جس سے چاہیں جہاں چاہیں جیسے چاہیں بات کر سکتے ہیں سوال کر سکتے ہیں اور ٹرول کر سکتے ہیں۔

سوشلستان کے ہفتہ وار فیچر کے ذریعے آپ اور سوشلستان کے دوسرے باسیوں کی گذشتہ ایک ہفتے کی باتوں، ٹرینڈز، تصاویر، ویڈیوز اور ان پر بننے والے حقیقی ٹرینڈز کی بات کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خیبرپختونخوا کے قائم مقام گورنر کی مداخلت پر علیشا کو علیحدہ کمرے میں منتقل کیا گیا مگر شاید تب تک دیر ہو چکی تھی

زانیوں، شرابیوں کے جنازے تو خواجہ سرا کا کیوں نہیں؟

پشاور میں خواجہ سرا علیشا پر فائرنگ اس کے بعد پشاور کے ہسپتال میں ان کے ساتھ ناروا سلوک اور پھر اُن کی ہلاکت کے بعد اس ساری صورتحال میں اچھائی کی توقع نہیں تھی۔

تاہم انٹرنیٹ پر سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں ایک مولانا نماز جنازہ سے پہلے جمع ہونے والے افراد سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’شراب پینے والے زنا کرنے والے جب اس دنیا سے گز جاتے ہیں تو ہم اُن کا جنازہ پڑھتےہیں؟ یہ جو بھی تھا مگر مسلمان تو تھا اس لیے میں ان کا جنازہ پڑھاؤں گا۔‘

علیشا کو چھ گولیاں لگیں اور شدید زخمی حالت میں ہسپتال انتظامیہ اس بات کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہی کہ وہ مردانہ وارڈ یا زنانہ وارڈ میں علیشا کو منتقل کریں۔

جب یہ بات انٹرنیٹ پر اور پھر مقامی میڈیا پر خبروں میں سامنے آئی تو خیبرپختونخوا کے قائم مقام گورنر کی مداخلت پر علیشا کو علیحدہ کمرے میں منتقل کیا گیا مگر شاید تب تک دیر ہو چکی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے ٹرینڈ نمایاں رہا۔

کنزہ جاوید نے لکھا ’معذرت علیشا آپ سیاہ سفید کی روایتی جنسی تمیز کے مطابق پیدا نہیں ہوئیں۔ پاکستان کو اپنے ضمیر کے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملا منصور بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بنے

ہیل فائر پروف پاسپورٹ، شناختی کارڈ

طالبان کے رہنما ایک گاڑی پر ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے جس پر پوری دنیا کے میڈیا میں تصدیق تردید پر شور و غوغا تھا مگر سوشلستان پر بات اس ایک شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی ہو رہی تھی جو ہیل فائر میزائل جس کا درحقیقت مطلب جہنم کی آگ ہے سے بھی بچ گیا۔

قومی ادارے نادرا کو شاباش اور تحسین کے تہنیتی پیغامات سوشل میڈیا پر دھڑا دھڑ آنے لگے کہ کمال کا مٹیریل استعمال کیا ہے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے پر مگر ایسے میں پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی کو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کا خیال آیا اور انھوں نے لکھا۔

’شناختی کارڈ نادرا نے جاری کیا اور پاسپورٹ امیگریشن نے دونوں چوہدری نثار کے دورِ وزارت میں جاری ہوئے۔‘

اگر پاسپورٹ اور شناختی کارڈ دونوں دیکھے جائیں تو یہ 2012 میں جاری کیےگئے جب چوہدری نثار حزبِ اختلاف میں تھے اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک وزیرِ داخلہ مگر جلد بازی میں ٹویٹ کرنے سے پہلے تاریخ کون دیکھتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مختلف شہروں میں ڈرون حملے کے خلاف مظاہرے کیے گئے

اس ہفتے کی ٹویٹ

فقیہہ سراج نے لکھا ’ان کے (خواجہ سراؤں) کروموسومز ہمارے سے مختلف ہوتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ حیوان ہیں۔ ایک معاشرے کی حیثیت سے ہم بے حس اور قابلِ افسوس ہیں۔‘

الماس بوبی نے ایک بار ایک ٹی وی شو میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جو لوگ ہم پر ہنستے وہ خدا کی تخلیق کے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہیں کیونکہ ہم جیسے بھی ہیں خدا کی تخلیق ہیں۔‘

جانے سے پہلے اس ہفتے کی دو اہم اور گہرا تاثر چھوڑنے والی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Trans Action Khyber Pakhtunkhwa
Image caption ہسپتال کے سٹریچر پر علاج کی منتظر علیشا کی تصویر
تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ولی محمد کا پاسپورٹ جو ملا اختر منصور پر ڈرون حملے کی جگہ سے مبینہ طور پر ملا

اسی بارے میں