پختونخوا کے حالات بہتر، 10 ہزار اہلکار فارغ کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے تعینات کیے گئے پولیس کے خصوصی سکواڈ کے دس ہزار کے لگ بھگ اہلکاروں کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس خصوصی سکواڈ میں بیشتر آرمی کے ریٹائرڈ اہلکار ہیں۔

صوبائی حکومت نے ان اہلکاروں کو اس سال 30 جون سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس بارے میں ایک نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ اس خصوصی سکواڈ میں بیشتر فوج اور نیم فوجی دستوں کے ریٹائرڈ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ ان کے ہمراہ ہر علاقے کے لیے مقامی نوجوانوں کو بھی تعینات کیا گیا تھا جو شدت پسندوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرتے تھے۔

تاہم پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ حتمی نہیں ہے اس پر مذاکرات ہو رہے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ یہ اہلکار عارضی طور پر تعینات کیےگئے تھے اور ان کو مستقل کیے جانے کا امکان تھا۔

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ہفتے کو پشاور کے دورے پر ہیں جہاں یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور انسپکٹر جنرل پولیس ناصر درانی ایک خصوصی اجلاس میں اس بارے میں بات چیت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس خصوصی دستے کے 25 سے 30 اہلکار تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک بھی ہو چکے ہیں

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ سال کے بجٹ کا اعلان چندر روز میں کیا جائے گا جس میں یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا ان اہلکاروں کی تنخواہوں کے لیے رقم مختص کی جا رہی ہے یا نہیں جس کے بعد ان کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔

چند روز پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی میں اس مسئلے پر بحث کی گئی تھی جس پر صوبائی حکومت کی جانب سے کہاگیا تھا کہ ان اہلکاروں کو فارغ نہیں کیا جا رہا لیکن ان کو مستقل کرنا مشکل ہے کیونکہ ان کی تعیناتی ایک باقاعدہ طریقے سے ہوتی ہے اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ خصوصی سکواڈ 2010 میں قائم کیا گیا تھا اور اس سکواڈ میں اہلکاروں کو ہر ماہ 10سے 15 ہزار روپے مقررہ تنخواہ ادا کی جاتی تھی۔

ان اہلکاروں کو عام طور پر خصوصی مہمات کے دوران تعینات کیا جاتا رہا ہے جیسے انسداد پولیو مہم اور دیگر ایسی تقریبات کے دوران جہاں زیادہ پولیس اہلکاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس خصوصی دستے کے 25 سے 30 اہلکار تشدد کے مختلف واقعات میں ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

بڈھ بیر اور متنی کے علاقوں میں انسداد پولیو مہم کے دوران ان اہلکاروں پر حملے ہوئے تھے جس میں اس خصوصی دستے کے اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں