’وزیرِاعظم وزرا اور سرکاری افسران سے مسلسل رابطے میں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 2011 میں نواز شریف کو لندن میں انجیو گرافی کے دوران پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا تھا

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات ونشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم نوازشریف دل کے آپریشن کے لیے لندن میں مقیم ہیں اور وہ لندن سے ہی امورِ مملکت بھی دیکھ رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزیرِاعظم کی معاونت کے لیے سرکاری افسران بھی لندن میں موجود ہیں۔

پرویز رشید کا کہنا تھا کہ منگل کو وزیرِاعظم کا بائی پاس ہوگا اور جیسے ہی ڈاکٹر ان کو اجازت دیں گے میاں نواز شریف پاکستان واپس چلے جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ وزیرِاعظم وفاقی وزرا اور دیگر اہم سرکاری افسران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔آج کل کے دور میں مواصلات کے جدید نظام کی وجہ سے آپ لمحہ بہ لمحہ معلومات حاصل کرسکتے ہیں اور ہدایات بھی دے سکتے ہیں۔‘

اس سے قبل وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کیےگئے بیان میں کہاگیا تھا کہ وزیرِاعظم مسلسل سرکاری حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور امورِ مملکت کو چلانے میں کسی قسم کا کوئی التوا یا تاخیر نہیں ہو رہی ہے۔

وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کیےگئے بیان کے مطابق آپریشن کے بعد میاں محمد نواز شریف صحت یابی کے بعد دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔

بیان میں مزید کہاگیا ہے کہ وزیراعظم کے علاج کا تمام خرچہ ان کے خاندان والے برداشت کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں قومی خزانے سے کوئی رقم نہیں لی گئی ہے۔

اس سے قبل سنہ 2011 میں نواز شریف کو لندن میں انجیو گرافی کے دوران پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

خیال رہے کہ یہ میاں نواز شریف کا لندن کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل وہ گذشتہ ماہ بھی طبی معائنے کے سلسلے میں لندن گئے تھے۔

اسی بارے میں