سری لنکا سے بدھ متوں کا تخت بھائی کا دورہ

سری لنکا سے بدھ مت کے پیروکاروں نے منگل کو خیبر پختونخوا کے علاقے تخت بھائی میں آثار قدیمہ کا دورہ کیا اور وہاں کچھ دیر کے لیے عبادت کی۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد سری لنکا سے بدھ مت کے پیروکار پہلی مرتبہ یہاں آئے ہیں۔

روایتی زرد رنگ کے کپڑوں میں ملبوس 40 کے لگ بھگ راہبوں نے ان آثار قدیمہ میں دلچسپی لی اور مختلف مقامات کا جائزہ لیا۔ تخت بھائی کے یہ آثار قدیمہ پہاڑ کی چوٹی پر واقع ہیں۔

بدھ مت کے ان پیرو کاروں کا دورہ وفاقی اور صوبائی حکومت نے مشترکہ طور پر ترتیب دیا تھا۔

وفاقی حکومت کے نیشنل ہسٹری اینڈ ہیریٹیج ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری مشہود احمد مرزا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دورہ وساکھ فیسٹیول کا حصہ ہے جس میں ان راہبوں کو مدعو کیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کم سے کم دس سے بارہ سالوں کے بعد بدھ مت کے پیروکاروں نے یہ دورہ کیا ہے۔ ان راہبوں نے تخت بھائی کے علاوہ ٹیکسلا اور صوابی میں عجائب گھر کا دورہ کیا۔

تخت بھائی کے یہ آثار کوئی دو ہزار سال پرانے ہیں جب بدھ مت کے مذہبی رہنما انوشکا نے یہاں قیام کیا تھا۔ تخت بھائی کا یہ مقام بدھ مت کے ماننے والوں کے لیے کوئی سات سو سال تک اہم مرکز رہا۔

ان یاتریوں نے ان آثار قدیمہ کی حفاظت پر حکومت کی تعریف کی اور کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان مذہبی بھائی چارہ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔

سری لنکن وفد نے صوابی میں ہنڈ کے عجائب گھر کا دورہ بھی کیا۔ یہ عجائب گھر دریائے سندھ کے ساتھ قائم کیا گیا ہے اور ماہرین کے مطابق اسی مقام سے سکندر اعظم دریائے سندھ عبور کرکے برصغیر میں داخل ہوئے تھے۔ اس عجائب گھر کے سبزہ زار پر یونان کی حکومت نے ایک یادگار بھی تعمیر کی ہے۔

اسی بارے میں