مہمند ایجنسی میں دھماکے، دو اہلکار ہلاک، دو زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مہمند ایجنسی میں گذشتہ چند دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں میں تیزی آئی ہے

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز پر ہونے والے دو الگ الگ بم حملوں میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ مہمند کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلا واقعہ منگل کی صبح بیزئی تحصیل کی پاک افغان سرحدی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل پر سوار سکیورٹی فورسز کے دو اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی اہلکار پاک افغان سرحد پر واقع صفدر چیک پوسٹ سے کہنی جارہے تھے کہ اس دوران ان پر سڑک کے کنارے بم حملہ کیا گیا۔ ان کے مطابق حملے میں دونوں اہلکار ہلاک ہوئے۔

سرکاری اہلکار کے مطابق دوسرا حملہ مہمند ایجنسی کی تحصیل پنڈیالی میں ہوا جہاں سڑک کی تعمیر میں مصروف فرنٹیر ورکس آرگنائزئشن کے اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا جس میں دو اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو پشاور منتقل کردیا گیا ہے۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان جماعت الحرار نے سرحدی پوسٹ کے قریب سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے کی ذ مہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

خیال رہے کہ مہمند ایجنسی میں گذشتہ چند دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں میں تیزی آرہی ہے۔ حالیہ دنوں میں علاقے میں ایسے متعدد حملے ہوچکے ہیں جس میں سکیورٹی اہلکار نشانہ بنائے گئے ہیں۔

چند دن پہلے مہمند ایجنسی میں چار شدت پسندوں کے لاشیں بھی ملی تھیں جنھیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد افغان سرحد عبور کرنے کے دوران مارے گئے تھے اور بعد میں یہ لاشیں خویزئی تحصیل کے علاقے سے ملی تھیں

اسی بارے میں