اسلامی نظریاتی کونسل کیا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ APP

جب سے پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک مسودۂ قانون کی تجویز دی ہے کہ خاوند بیوی کی ’ہلکی پٹائی‘ کر سکتا ہے، اس پر تنقید کی جا رہی ہے۔

آئین کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان کو ’اہل‘ ہونا چاہیے۔ اس میں لکھا ہے کہ کونسل میں کم از کم دو ریٹائرڈ ججوں کی شمولیت لازمی ہے، جن کا اسلامی تحقیق اور تعلیم میں کم از کم 15 سال کا تجربہ ہو۔ اور یہ کہ ارکان کو پاکستان کے معاشی، سیاسی، قانونی، یا انتظامی مسائل کا علم ہو۔‘

تاہم عملی طور پر اس تعریف میں توسیع کر کے اس میں مذہبی پریشر گروپوں کے ایسے لوگ شامل کیے جاتے رہیں جو صرف مدرسوں میں پڑھاتے رہے ہیں جہاں جدید علوم کو کمتر سمجھا جاتا ہے۔

٭ کونسل صرف تجاویز دے سکتی ہے

٭ اسلام میں عورت پر تشدد کی اجازت نہیں

یہی وجہ ہے کہ کونسل کی تجاویز کو رہنماؤں نے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔

اسلامی نظریاتی کونسل اس سے پہلے بھی تنازعات کی زد میں رہی ہے۔ تاہم عورتوں کے تحفظ کے بل سے غیرمعمولی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

مسودے کے جو حصے میڈیا کے ہاتھ لگے ہیں ان کے مطابق اگر بیوی مناسب لباس نہ پہنے یا شوہر کی جنسی خواہش پوری نہ کرے تو وہ بیوی کی ’ہلکی‘ پٹائی کر سکتا ہے۔

اس کے علاوہ نرسیں مرد مریضوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتیں، اور بیرونی رہنماؤں کی آمد کے موقعے پر استقبالیہ تقریبات میں عورتوں کی موجودگی پر بھی پابندی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

Image caption یہ تجاویز عورتوں کی توہین کے مترادف ہیں: ماہرِ قانون عاصمہ جہانگیر

پنجاب کے وزیرِ قانون رانا ثنا اللہ نے ان تجاویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ’اسلام کسی قسم کے تشدد کی اجازت نہیں دیتا، چاہے وہ عورت کے خلاف ہو یا بچوں کے خلاف۔‘

ماہرِ قانون عاصمہ جہانگیر نے جیو ٹی وی کو بتایا کہ یہ تجاویز ’عورتوں کی توہین‘ کے مترادف ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے انھیں ’مضحکہ خیز‘ قرار دیتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کونسل نے تجاویز کیوں پیش کیں؟

مارچ میں پنجاب کی حکومت نے خواتین کے تحفظ کا قانون منظور کیا تھا۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے اسی کا جواب دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انسانی حقوق کے اداروں نے کونسل کی تجاویز کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے

پنجاب کے قانون میں گھریلو تشدد کا شکار بننے والی خواتین کے تحفظ کے لیے اقدامات تجویز کیے گئے تھے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جب تک معاملہ حل نہ ہو جائے، تشدد کرنے والے کو متاثرہ فرد سے دور رکھا جائے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے اسے غیراسلامی قرار دیا تھا۔

پنجاب حکومت نے اپنے قانون کا اطلاق ملتوی کر دیا، حالانکہ وہ کونسل کے فیصلے پر عمل کرنے کی پابند نہیں تھی۔

جھنڈے پر اللہ اکبر

کونسل ایک عرصے سے سفارشات دیتی چلی آئی ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ کونسل نے 1978 میں تجویز دی تھی کہ پاکستانی جھنڈے پر ’اللہ اکبر‘ کے الفاظ درج ہوں۔ تاہم اس پر کسی نے عمل کی زحمت نہیں کی۔

1983 میں کونسل نے فیصلہ صادر کیا کہ سیاسی جماعتیں اسلام کی روح کے منافی ہیں اور پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام اسلام سے زیادہ قریب ہے۔

1990 کی دہائی میں کونسل نے قرار دیا کہ پاکستان کا مالیاتی نظام غیر اسلامی ہے اور کہا کہ اسے بدل نفع نقصان کی شراکت پر مبنی نظام نافذ کیا جائے۔

تاہم اسے بھی کوئی پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔

جہاں کونسل سیاسی اور مالیاتی شعبوں میں زیادہ موثر نہیں رہی، لیکن اس کی آواز عائلی اور سماجی معاملات میں زیادہ سنی گئی ہے۔

اس شعبوں میں اسے بعض سیاسی تنظیموں اور فوج کی ہمدردی حاصل رہی ہے۔

مثال کے طور پر 1970 کی دہائی کے وسط میں جب کونسل نے شراب پر پابندی کا مطالبہ کیا تو سڑکوں پر مظاہرے شروع ہو گئے جن کی وجہ سے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جھکنا پڑا۔

جنوری میں ایک پارلیمانی کمیٹی نے کونسل کی مخالفت کی وجہ سے ایک مجوزہ قانون ترک کر دیا جس کے تحت ملک میں شادی کے لیے کم از کم عمر 16 سال سے بڑھا کر 18 سال طے کی جانا تھی۔

کونسل کوشش کرتی رہی کہ شادی کے لیے کم از کم عمر الٹا گھٹا کر لڑکوں کے لیے 12 سال اور لڑکیوں کے لیے نو سال کر دی جائے ’بشرطیکہ بلوغت کے آثار نمایاں ہو جائیں۔‘

تاہم حکومتیں ان تجاویز کو نظرانداز کرتی رہی ہیں، اس لیے اب بھی پاکستان میں شادی کی کم از کم عمر 16 برس ہے۔

اسی بارے میں