عرب ممالک میں چھانٹیوں کا اثر پاکستان پر

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کی موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ملکی ذخائر ساڑھے 21 ارب ڈالر کی سطح سے تجاوز کر چکے ہیں، لیکن خلیجی ممالک میں ملازمت کے مواقع میں حالیہ کمی سے ترسیلاتِ زر کی مد میں آنے والے رقوم میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

احتشام حفیظ ان پاکستانیوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے روزگار کی غرض سے مشرقِ وسطیٰ کا رخ کیا تھا۔

٭ کپاس کی خراب فصل سے اقتصادی ترقی متاثر: اسحاق ڈار

٭ جیب خالی اور پولیس کا خوف

ساڑھے تین برس تک سعودی عرب کی ایک نجی کمپنی میں ملازم رہنے کے بعد چند ماہ قبل اُن کی نوکری ختم ہو گئی اور انھیں واپس آنا پڑا۔

احتشام آج کل بےروزگار ہیں اور نوکری تلاش کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں اب ملازمتیں بہت کم ہیں۔

’سعودیہ میں اب حالات پہلے جیسے نہیں رہے ۔ پہلے تنخواہیں اچھی تھیں لیکن اب کام بڑھ گیا ہے اور تنخواہیں آدھی کر دی ہیں۔ میں تو وہاں سے مایوس ہو کر واپس آ گیا ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر پاکستان بھجواتے ہیں اور یہ رقوم پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کا دوسرا بڑا ذریعہ ہیں

احتشام نے بتایا کہ اُن کی کمپنی سے آٹھ سے دس افراد ایک ہی وقت میں بےروزگار ہو کر ملک واپس آئے ہیں۔

تیل کی دولت سے مالامال مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کو پاکستان کے کم تعلیم یافتہ لیکن ہنرمند افراد کے لیے منافع بخش مارکیٹ سمجھا جاتا تھا لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی سے سعودی عرب کی طرح تیل سے حاصل ہونے والی آمدن پر انحصار کرنے والے ممالک میں خسارہ بڑھا ہے اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی تعمیراتی کمپنیوں میں ملازمت کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔

Image caption ریکروٹنگ کمپنیوں کے مطابق خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی کھپت کم ہوئی ہے

ہنر مند پاکستانیوں کو بیرون ملک ملازمت دلوانے والی ریکروٹنگ کمپنیوں کے مطابق خلیجی ممالک اور سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی کھپت کم ہوئی ہے۔

ایسی ہی ایک ریکروٹنگ کمپنی کے مالک اسد کیانی کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی بڑی کمپنیوں میں ملازمتیں نہیں پیدا ہو رہیں اور بعض بڑی کمپنیاں تو اپنے ملازمین کو تنخواہیں بھی نہیں دے پا رہی ہیں۔

اسد کیانی کے مطابق ’پاکستان سے بہت زیادہ افراد باہر جانا چاہتے ہیں لیکن اب زیادہ نوکریاں نہیں ہیں۔‘

ملازمت کی غرض سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں کام کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملازمت کی غرض سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی اکثریت مشرقِ وسطی کے ممالک میں کام کر رہی ہے

پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 2014 میں مجموعی طور پر سات لاکھ 31 ہزار 639 افراد سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک میں روزگار کے لیے منتقل ہوئے ہیں۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر پاکستان بھجواتے ہیں۔ یہ رقوم پاکستان میں غیر ملکی زرمبادلہ فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ذریعہ ہیں۔

رواں مالی سال میں جولائی سے اپریل کے دوران ترسیلات زر کی مدد میں 16ارب ڈالر پاکستان آئے، جن میں سعودی عرب سمیت مشرق وسطیٰ کے ممالک سے بھیجی گئی رقم کی مالیت دس ارب 33 کروڑ ڈالر ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران ترسیلات زر کی مد میں سب زیادہ چار ارب 83 کروڑ ڈالر سعودی عرب سے آئے ہیں لیکن گذشتہ تین ماہ کے دوران سعودی عرب سے آنے والی اس رقم میں کمی آئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشی سست روی اور خسارے کی وجہ سے ملازمتوں میں کمی سے پاکستان کی ترسیلاتِ زر متاثر ہو سکتی ہیں۔

ماہر معاشیات ڈاکٹر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں مقیم زیادہ تر پاکستانیوں کو وہاں کی شہریت نہیں ملتی اور بیشتر کے خاندان پاکستان میں رہتے ہیں، اس لیے وہاں مقیم زیادہ تر افراد اپنی آمدن پاکستان بھجواتے ہیں۔

ڈاکٹر سلہری کے مطابق ترسیلات زر غیر ملکی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں لیکن اس میں تنوع کی ضرورت ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستانی افرادی قوت کی دوسرے ممالک میں مانگ پیدا کی جائے اور خدمات کی برآمدات پر توجہ دی جائے۔

Image caption ضروری ہے کہ پاکستانی افرادی قوت کی دوسرے ممالک میں مانگ پیدا کی جائے اور خدمات کی برآمدات پر توجہ دی جائے: عابد سلہری

انھوں نے کہا کہ ’زرمبادلہ کے لیے ترسیلاتِ زر پر انحصار نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ دنیا میں پالیسیاں بدلتی رہتی ہیں اور پاکستان کے لیے تو اکثر ممالک اپنی غیر ملکی پالیسی سخت سے سخت تر کر رہے ہیں۔‘

پاکستان کے مرکزی بینک نے خبردار کیا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافے اور ترسیلاتِ زر میں کمی سے ملکی معیشت متاثر ہو سکتی ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان حالاتِ میں غیر ملکی زرمبادلہ کے لیے صرف ترسیلاتِ زر پر انحصار کے بجائے برآمدات اور علاقائی تجارت کو فروغ دینا چاہیے۔