ایان علی کو بیرون ملک سفر کی اجازت مل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایان علی ان دنوں ضمانت پر ہیں۔ ملزمہ کو گذشتہ برس گرفتار کیا گیا تھا

سندھ ہائی کورٹ نے ماڈل ایان علی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے۔ ان پر امریکی ڈالر بیرونِ ملک سمگل کرنے کے الزام میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان اور سندھ ہائی کورٹ نے ایان علی کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی لیکن وزارت داخلہ نے ان کا نام دوبارہ ای سی ایل میں شامل کر دیا تھا۔

ایان علی کا موقف تھا کہ عدالت کے حکم پر ای سی ایل سے نام خارج ہونے کے بعد انھوں نے ٹکٹ بک کروایا اور 20 اپریل کو نوٹیفیکیشن کے ساتھ ایئرپورٹ پہنچیں تو ایف آئی اے حکام نے انھیں سفر کرنے سے روک دیا۔

انھوں نے وفاقی وزارت داخلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی، جس کے بعد سپریم کورٹ نے انھیں دوبارہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں ڈویژن بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سلمان طالب الدین کا موقف تھا کہ درخواست گزار کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے، اور حکومت نے عدالت کے کسی حکم کی عدولی نہیں کی، ایان علی کا نام ای سی ایل سے خارج کر دیا تھا لیکن ٹیکس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ان کا نام دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو اگر اس فیصلے پر کوئی اعتراض ہے تو وہ سات دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے

ایان علی کے وکیل کا موقف تھا کہ متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے، جنھوں نے عدالت کے احکامات کے باوجود ایان علی کا نام ای سی ایل میں شامل رکھا ہے۔ انھوں نے یاد دہانی کرائی کہ اسی عدالت نے 26 مارچ کو بھی حکام کو ہدایت کی تھی کہ ایان کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے موقف کو مسترد کر دیا اور وزارت داخلہ کو ایان علی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم جاری کر دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو اگر اس فیصلے پر کوئی اعتراض ہے تو وہ سات دن میں سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ ماڈل ایان علی کو اسلام آباد کے شہید بےنظیر بھٹو ایئرپورٹ سے حکام نے گرفتار کر کے ان سے پانچ لاکھ امریکی ڈالر برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی بارے میں