’اسلام آباد میں اتنی شدت کا طوفان پہلے کبھی نہیں آیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعرات کو اسلام آباد میں ایک روز قبل آنے والے طوفان کی شدت کے آثار جگہ جگہ نظر آئے

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بدھ کی رات آنے والی طوفانی ہواؤں کے دورانیے نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے جبکہ حکام کی جانب سے دارالحکومت میں گرنے والے درختوں کو ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے۔

خیال رہے کہ طوفان کے نتیجے میں کئی مکانات کی چھتیں اور دیواریں ڈھے گئیں جب کہ بہت سے مقامات پر درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، اور بعض مقامات پر درخت بجلی کے تاروں اور کھمبوں پر گرنے سے بجلی معطل رہی۔

اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے میں آفات سے نمٹنے کے شعبے کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعرات کی صبح تک اسلام آباد میں مسدود ہونے والی سڑکوں کو بحال کر دیا گیا تھا۔

اسلام آباد میں جمعرات کی شام تک مختلف سیکٹروں یا علاقوں میں سڑکوں پرگرنے والے درختوں کو ہٹانے کا کام جا رہا تھا۔

سی ڈی اے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ طوفان کی وجہ سے مختلف علاقوں میں نصب اشتہاری بورڈ گرنے سے ادارے کو خاصا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طوفان کے نتیجے میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو نقصان پہنچا

انھوں نے بتایا کہ ’ابتدائی امدادی کاموں کے بعد اب ماحولیات کا شعبہ درختوں کو سڑکوں کے کنارے سے ہٹانے کا کام کر رہا ہے تاہم انھوں نے بتایا کہ ابھی گرنے والے درختوں کی حتمی تعداد نہیں بتائی جا سکتی۔‘

جمعرات کو بھی ایک روز قبل شہر میں طوفان کی شدت کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔ سڑکوں پر گرنے والے درختوں کو ہٹایا جا رہا ہے جب کہ سڑکوں کے کنارے کوڑے اور درختوں کے پتے اور شاخوں کے ڈھیر اب بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔

طوفانی ہواؤں کے باعث مکانات اور درخت گرنے سے 14 افراد ہلاک اور 125 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PDMA
Image caption درخت اور بجلی کے کھمبے گرنے سے کئی مقامات پر سڑکیں مسدود ہو گئیں

آندھی اور بارش بدھ کی شب آٹھ بجے کے قریب شروع ہوئی اور ان کا سلسلہ 45 منٹ تک جاری رہا۔

طوفان کی شدت کے بارے میں بات کرتے ہوئے محکمۂ موسمیات کے سینئیر اہلکار محمد حنیف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس خطے میں کئی برسوں بعد اتنا شدید طوفان آیا ہے لیکن ماضی میں آنے والے طوفانوں کا دورانیہ اتنا زیادہ نہیں ہوتا تھا۔

’اس موسم میں آنے والی آندھی کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 15 منٹ ہوتا ہے اور رفتار 80 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوتی ہے، لیکن جمعرات کو یہ 30 منٹ سے زیادہ دیر تک جاری رہی جبکہ وادی پشاور میں طوفانی ہواؤں کا نظام بنا تو اس کی رفتار 90 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی، لیکن جب یہ ٹیکسلا سے اسلام آباد میں داخل ہوا تو اس کی رفتار میں 30 فیصد تک اضافہ ہو گیا اور یہ 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد جبکہ راولپنڈی میں 148 فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی۔‘

ڈاکٹر محمد حنیف کے مطابق ’اس سے پہلے پنجاب کے میدانی علاقوں میں 150 سے 160 کلومیٹر فی گھنٹہ کے حساب سے آندھی آ چکی ہے لیکن اس کا دورانیہ کم تھا لیکن جمعرات کو آنے والی آندھی کا دورانیہ غیر معمولی تھا اور اسی وجہ سے یہ ایک نیا ریکارڈ بھی ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ اتنا شدید طوفان کئی برسوں کے بعد ایک بار ہی آتا ہے اور مستقبل قریب میں دوبارہ اتنی شدت کا طوفان متوقع نہیں ہے۔

اسی بارے میں