1276 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے وزیر خزانہ نے آئندہ مالی سال کے لیے 43 کھرب 94 ارب روپے مالیت کے وفاقی بجٹ کا اعلان کیا ہے، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 7.3 فیصد زائد ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مالی سال 2016 -2017 کے لیے مجوزہ بجٹ کا اعلان کیا جو مسلم لیگ نواز کی حکومت کا چوتھا بجٹ ہے۔

بجٹ کا خسارے 1276 ارب روپے ہے جو جی ڈی پی یا خام ملکی پیداوار کا 3.8 فیصد ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کی مد میں 11 فیصد اضافہ کیاگیا ہے اور دفاعی بجٹ کا حجم 860 ارب روپے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ 800 ارب روپے ہے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 21 فیصد زائد ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کی وجہ سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے افراد کی بحالی کے لیے بجٹ میں 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ 43 کھرب 95 ارب روپے ہے جبکہ کرنٹ اخراجات کا تخمینہ 32 کھرب 82 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران ٹیکسوں کی وصولی میں 60 فیصد اضافہ ہوا جب کہ جون کے اختتام تک ٹیکسوں کی وصولی کا 3104 ارب روپے کا ہدف حاصل کر لیں گے۔

آئندہ مالی سال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ٹیکس وصولیوں کے لیے 36 کھرب 21 ارب روپے کا ہدف دیا گیا ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کم سے کم اجرت 13 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے یکم جولائی سے سرکاری ملازمین کو سنہ 2013 اور سنہ 2014 میں ملنے والے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کو نئی بنیادی تنخواہ پر مزید 10 فیصد ایڈہاک الاؤنس دیا جائے گا۔

یکم جولائی سے پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ 85 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کو ملنے والے پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

زرعی شعبے کے لیے مرآعات

وفاقی بجٹ سنہ 2016-2017

  • یوریا کھاد کی فی بوری قیمت میں کمی 400 روپے

  • فاسفیٹ کھاد کی فی بوری قیمت میں کمی 300 روپے

  • کاشکاروں کو کھاد کے لیے 10 ارب روپے کی سبسڈی

  • زرعی قرضوں کے حجم 100 ارب کا اضافہ

  • زرعی ٹیوب ویل کے لیے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ کمی 3.32 پیسے

گریڈ 1 سے 15 کے ملازمین کے اوور ٹائم الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

وفاقی ملازمین کے ایم فل اور پی ایچ ڈی الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد یہ رقم 12500 روپے ماہانہ ہوجائے گی۔

سرحدی علاقوں میں تعینات سول آرمڈ فورسز کی خصوصی الاؤنس کو بڑھا کر 210 روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔معذور افراد کو ملنے والے کنوینس الاؤنس کو بڑھا کر ایک ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی مد میں حکومت 57 ارب روپے اضافی خرچ کرے گی۔

حکومت نے بجٹ میں سگریٹ پر مزید سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کم درجے کے سگریٹ پر 23 پیسے جب کہ اعلیٰ درجے کے سگریٹ پر 55 پیسے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔

پان اور چھالیہ پر عائد موجودہ ڈیوٹی کو 10 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ پر سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ اعلٰی درجے کے اسمارٹ فونز پر ڈیوٹی 1000 روپے سے بڑھا کر 1500 روپے کر دی گئی ہے۔

کم کیٹیگری کے فونز پر عائد 500 روپے ڈیوٹی کو برقرار کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

کارپوریٹ سیکٹر پر عائد ٹیکس کی شرح 32 فیصد سے کم ہو کر 31 فیصد کر دیا گیا ہے۔

سالانہ دس لاکھ روپے کم آمدن کمانے والے افراد کے لیے بچوں کی 60 ہزار روپے سالانہ سکول فیس پر عائد 5 فیصد ٹیکس کو ختم کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پانچ سال کے اندر اندر خریدی گئی جائیداد فروخت کرنے پر 10 فیصد کیپٹل گین ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے خدمات پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس کو ایک فیصد سے بڑھا دو فیصد کر دیا گیا ہے۔

نان فائلرز کے لیے ڈیویڈنڈ سے حاصل ہونے والے آمدن پر 17.5 ٹیکس کو بڑھا کر 20 فیصد کر دیا گیا ہے۔

رواں سال کے بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ زرعی شعبے کو دی گئی ہے جبکہ برآمدت میں اہم کردار ادا کرنے والے پانچ بڑے سیکٹرز کو ٹیکسوں سے مستشنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

زرعی شعبے میں قرضوں پر شرح سود کو دو فیصد کم کیا گیا ہے اور یوریا کھاد اور فاسفیٹ کھاد کی فی بوری قیمت میں کمی کی گئی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی سے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو چارٹر اور اکنامکی یا میثاقِ معیشت کی ضرورت ہے تاکہ تمام جماعتیں سیاسی مشاورت سے لائحہ عمل بنائیں۔