’دشمن خفیہ اداروں کو ملک میں گڑبڑ نہیں کرنے دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption اجلاس میں پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے خلاف کی جانے والی سازشوں پر غور کیا گیا

پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت نے کہا ہے کہ ملک دشمن خفیہ اداروں اور ان کے سہولت کاروں کو ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس بات کا اعادہ جی ایچ کیو میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور خارجہ امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے علاوہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر نے شرکت کی۔

اجلاس میں ملک میں امن و امان کی صورت حال کے علاوہ علاقائی سکیورٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اس کے علاوہ اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں علاقے میں ہونے والی پیشرفت اور پاکستان کے استحکام اور خوشحالی کے خلاف کی جانے والی سازشوں پر غور کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں شدت پسندوں کے خلاف جاری ضرب عضب پر غور کیا گیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ اس آپریشن سے ملنے والی کامیابیوں سے ملک میں استحکام آ رہا ہے۔

اجلاس میں آپریشن ضرب عضب کے بعد متاثرہ علاقے میں لوگوں کی واپسی اور وہاں پر حکومت کی عملداری قائم کرنے کے لیے بھی مختلف تجاویز پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں 21 مئی کو بلوچستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

اس ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور ہلاک ہوگئے تھے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچنے کے علاوہ افغان امن عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

امریکی ڈرون حملے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم کی برطانیہ سے وطن واپسی کے بعد قومی سلامتی کی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا تاہم میاں نواز شریف کی وطن واپسی میں تاخیر کی وجہ سے فوج کے جنرل ہیڈ کوراٹر میں یہ اجلاس طلب کیا گیا۔

اس اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان شریک نہیں تھے۔

اسی بارے میں