کوئٹہ میں فائرنگ سے لا کالج کے پرنسپل ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ایک واقعے میں یونیورسٹی لا کالج کے پرنسپل ہلاک ہوگئے ہیں۔

بروری پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بیرسٹر امان اللہ خان اچکزئی کلی مبارک میں اپنے گھر سےگاڑی میں کالج کے لیے نکلے تھے اور جب وہ اسپنی روڈ کے قریب پہنچے تو نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے۔

انھیں جائے وقوع سے سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

امان اللہ خان سنہ 2014 میں لا کالج میں بطور پرنسپل تعینات ہوئے تھے اور ان کے قتل کے خلاف طلباء نے کالج کو بطور احتجاج بند کروانے کے علاوہ گورنر ہاؤس کے قریب احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔

بیرسٹر امان اللہ خان کی ہلاکت کی خبر سنتے ہی وکلا میں بھی اشتعال پھیل گیا اور انھوں نے عدالتوں کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا۔ وکلاء نے اس واقعے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

اس قتل کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے تاہم ڈی آئی جی آپریشن کوئٹہ چوہدری منظور سرور نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی جائے گی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری اور گورنر محمد خان اچکزئی نے فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

خیال رہے کہ ماضی میں بھی کوئٹہ میں اساتذہ کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پیش آچکے ہیں۔

اسی بارے میں