’اقتصادی راہداری وفاق، صوبوں میں مضبوط تعلق کی ضامن‘

چین پاکستان اقتصادی راہداری پر پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی اور استحکام میں چین نے اہم کردار ادا کیا اور اقتصاری راہداری کا منصوبہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اسلام آباد میں اقتصادی راہداری پر پارلیمانی کمیٹی کے چیئرین مشاہد حسین نے سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اقتصادی راہداری سے ملک کے پسماندہ علاقے ترقی یافتہ علاقوں سے منسلک ہو جائیں گے۔

٭ اقتصادی راہداری کے خلاف سازشوں سے آگاہ ہیں: آرمی چیف

٭ چابہار اور گوادر، خطے کی سیاست

انھوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری کے روٹ پر تعمیر ہونے والے اقتصادی زونز، صنعتی پارک اور آئل پائپ لائن کے قیام سے ملک بھر میں ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

یاد رہے کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 46 ارب ڈالر مالیت سے گودار سے چین تک اقتصادی راہداری بنائی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ بعض ممالک اس منصوبے کے خلاف ہیں لیکن حکومت اور عوام کی کوشیشوں سے وہ اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبے کو عوام کی حمایت حاصل ہے اور جب تک اس منصوبے کی تکمیل کے لیے عوام متحد ہیں کوئی اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے۔

اقتصادی راہداری کے منصوبے پر سیاسی جماعتوں میں پائے جانے والے اختلافات کے بارے میں سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت نے منصوبے کی حمایت کی ہے اور اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر قیمت پر اقتصادی راہداری کے منصوبے کو مکمل کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا اس منصوبے کا سب سے زیادہ فائدہ کم ترقی یافتہ علاقے خاص کر خیبر پختوانخوا اور قبائلی علاقوں کو ہو گا۔

اقتصادی راہداری کا منصوبہ ملک کی معاشی ترقی اور عوام کی بہتری میں اہم کردار ادا کرے گا۔ منصوبے کے ذریعے سڑکوں، ریلوے لائن اور پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے رابطے ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں