دھاندلی کے الزامات پر افضل خان کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی نے ان الزامات پر افضل خان کے خلاف دوکروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق ایڈشنل سیکرٹری افصل خان نے سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں الیکشن کمیشن اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر لگائے گئے دھاندلی کے الزامات پر غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔

دھاندلی کے تمام الزامات مسترد

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سابق ایڈشنل سیکرٹری نے یہ الزامات ایڈشنل سیشبن جج کی عدالت میں واپس لیے جہاں پر صوبہ پنجاب کے الیکشن کمیشن کے ممبر جسٹس ریٹارئرڈ ریاض کیانی کی طرف سے دائر کیے گئے ہتک عزت کے دعوے کی سماعت ہورہی تھی۔

جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی نے ان الزامات پر افضل خان کے خلاف دوکروڑ روپے ہرجانے کا دعوی دائر کیا تھا۔ افضل خان کی طرف سے غیر مشروط معافی مانگی گئی جس پر الیکشن کمیشن پنجاب کے ممبر ریاض کیانی نے اُنھیں معاف کردیا۔

الیکشن کمیشن کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے درمیان معاملہ افہام تفہیم سے طے ہونے کے بعد ہتک عزت کے اس دعوے کو نمٹا دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے افضل خان نے سنہ2013 میں ہونے والے عام انتخابات کو ملک کے سب سے بڑے منصافانہ انتخابات قرار دیا تھا تاہم الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق جب اُن کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی تو انھوں نے اعلی عدلیہ سمیت الیکشن کمیشن کے ارکان پر دھاندلی کے الزامات عائد کردیے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان عوامی اجتماعات میں نہ صرف افضل خان کے اس بیان کو اُن کے ضمیر کی آواز کہتے تھے بلکہ اس بیان کو وہ موجودہ حکومت کے خاتمے کے لیے پہلا قدم قرار دیتے تھے۔

انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کی عدالتی تحقیقات کے دوران افصل خان کو بھی کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی استدعا کی گئی تھی تاہم اس عدالتی کمیشن کے سربراہ اور سابق چیف جسٹس ناصرالملک نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔