نواز حکومت کی خارجہ پالیسی کی دس کامیابیاں

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے تین سال مکمل ہونے پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے خارجہ پالیسی کے شعبے میں اپنی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا ہے جس میں دس ’کامیابیاں‘ گنوائی گئی ہیں۔

خارجہ پالیسی کا یہ جائزہ جس دن پیش کیا گیا، اسی دن ایک پریس بریفنگ میں مشیر خارجہ نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کے بارے میں یہ بھی کہا کہ 21 مئی کے ڈرون حملے کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات عدم اعتماد کا شکار ہو گئے ہیں۔

مشیر خارجہ کی طرف سے خارجہ پالیسی کے شعبے میں حکومت کی کامیابیوں کے بارے میں بیان ایک ایسے وقت جاری کیا گیا ہے جب پاکستان کی خارجہ پالیسی شدید دباؤ کا شکار نظر آتی ہے اور حکومت کے ناقدین پاکستان کے سفارتی طور پر تنہا ہونے کی باتیں کر رہے ہیں۔

دو دن قبل راولپنڈی میں فوج کے ہیڈکوارٹر میں پاکستانی فوج کے سربراہ راحیل شریف کی قیادت میں ایک اہم اجلاس ہوا جس میں مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے علاوہ خارجہ امور پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری بھی موجود تھے۔

وزارتِ خارجہ کے تین اعلیٰ ترین اہلکاروں کی اس اجلاس میں موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اس اجلاس میں تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

سفارتی محاذ پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جارحانہ پالیسی اور پاکستان کے مغربی ہمسایہ ملکوں ایران اور افغانستان میں سرمایہ کاری کے معاہدوں کے بعد امریکہ کے دورے کے دوران جس انداز میں ان کی پذیرائی ہوئی ہے وہ پاکستان میں شدید تشویش کا باعث ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

مشیر خارجہ نے اپنی پریس بریفنگ میں یہ اعتراف بھی کیا کہ امریکہ کا بھارت کی طرف جھکاؤ خطے میں دفاعی عدم توازن پیدا کرتا ہے۔

سرتاج عزیز کی طرف سے جو دس کامیابیاں گنوائی گئی ہیں ان میں چھٹے نمبر پر امریکہ سے تعلقات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2013 کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں استحکام پیدا ہوا جو ان کے بقول اس سے قبل غیریقینی صورت حال کا شکار تھے۔

اس سلسلے میں انھوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کی بحالی کا حوالہ دیا۔ گذشتہ تین برسوں میں وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے امریکہ کے دو دوروں کو بھی مشیر خارجہ نے خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم جو سنہ 2014 میں برسِر اقتدار آئے تھے، وہ امریکہ کے چار دورے کر چکے ہیں اور ان کی امریکی صدر براک اوباما سے سات مرتبہ ملاقات ہو چکی ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن میں پاکستان مخالف جذبات بڑھتے جا رہے ہیں اور حال ہی میں امریکی کانگریس نے پاکستان کو ایف 16 طیاروں کے لیے دی جانے والی مالی معاونت پر قدغن لگا دی جس سے پاکستان کے لیے ان طیاروں کی خریداری کا راستہ تقریباً بند ہو گیا ہے۔

مشیر خارجہ کی کامیابیوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر چین سے تعلقات ہیں اور اس سلسلے میں چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے منصوبے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری چین کے اس عظیم منصوبے کا حصہ ہے جو صدیوں پرانے سلک روٹ پر ریل اور سڑک کے ذریعے رابطہ قائم کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

مشیر خارجہ کے مطابق چین اور پاکستان کی دو طرفہ تجارت 19 ارب ڈالر پر پہنچ گئی ہے۔ خیال رہے کہ چین اور بھارت کے درمیان تجارت کا حجم سنہ 2015 میں ایک سو ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا تھا جو سنہ 2013 میں صرف 65 ارب ڈالر کے قریب تھا۔

ان کامیابیوں میں افغانستان کے مصالحتی عمل کا ذکر بھی ہے جو بلوچستان میں 21 مئی کو امریکی ڈرون حملے میں ملا منصور اختر کی ہلاکت کے بعد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

خارجہ پالیسی کی کامیابیوں میں ایران سے تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ تعلقات ایرانی صدر حسن روحانی کے حالیہ پاکستان کے دورے سے مستحکم ہوئے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی کے اس دورے کے دوران ہی بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہوئی اور اس بارے میں دونوں اطراف سے متضاد بیانات سے دورے میں بدمزگی پیدا ہونے کا تاثر پیدا ہوا تھا۔

دوسری جانب گذشتہ تین برس سے پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر اس حکومت کے دور میں کوئی پیش رفت نہیں ہو پائی۔

ایک ایسے وقت جب بھارت کے وزیر اعظم امریکہ میں اپنے دورے پر ہیں اور بھارتی قوم کی نظر واشنگٹن پر لگی ہوئی ہیں، پاکستانی قوم لندن کی طرف دیکھ رہی ہے اور وزیر اعظم میاں نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہے جو گذشتہ تین برسوں سے وزارتِ خارجہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں