’ڈرون حملے سے امریکہ سے تعلقات عدم اعتماد کا شکار ہوئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان خطے میں روایتی اور سٹرٹیجک توازن برقرار رکھنے کے لیے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھے گا: سرتاج عزیز

وزیر اعظم پاکستان کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ 21 مئی کو امریکی ڈرون حملے سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں اعتماد کو نقصان پہنچا ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسلام آباد میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ ڈرون حملہ نہ صرف پاکستان کی جغرافیائی خودمختاری کی خلاف ورزی تھا بلکہ اس سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں اعتماد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

٭نیوکلیئر سپلائر گروپ کیا ہے؟

٭ پاکستان کسی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں: فاطمی

یاد رہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں 21 مئی کو ہونے والے اس ڈرون حملے میں طالبان رہنما ملا منصور اختر کو نشانہ بنایا گیا تھا جو ایران سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے۔

سرتاج عزیر نے کہا کہ ڈرون حملے میں ملا منصور اختر کی ہلاکت سے افغان مصالحتی عمل بھی متاثر ہوا ہے اور اس واقعے کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔

مشیر خارجہ نے کہا کہ اس ڈرون حملے کے پیچھے کار فرما امریکی مقاصد کے بارے میں پاکستان یقین سے کچھ نہیں کہ سکتا لیکن یہ بات یقینی کہ اس حملے کے مثبت سے زیادہ منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

بھارتی صدر نریندر مودی کے امریکہ کے دورے اور امریکہ کی طرف سے بھارت کی نیوکلیئر سپلائر گروپ میں شمولیت کی حمایت کے بارے میں ایک سوال پر مشیر خارجہ نے بھارت کی طرف امریکہ کے جھکاؤ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اس سے خطے میں دفاعی عدم توازن پیدا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امریکہ کو اس بات کی یاد ہانی کراتا ہے کہ اُس کو خطے میں امن قائم رکھنے کی خاطر سکیورٹی توازن کا خیال رکھنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ایک اور سوال پر مشیرِ خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے روایتی اور سٹریٹیجک عدم توازن پر پاکستان خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے جوابی ردعمل پر کسی کا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں روایتی اور سٹریٹیجک توازن برقرار رکھنے کے لیے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ جاری رکھے گا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کے لیے توازن بہت ضروری ہے۔

پاکستان کے مشیر خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب انڈیا نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لیے درخواست جمع کروائی ہے اور کئی عالمی سربراہان اور ملک اس کی شمولیت کی حمایت کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے 21 مئی 2016 کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کے لیے باضابطہ طور پر درخواست جمع کرائی تھی۔

دفترِ خارجہ میں بریفنگ کے دوران مشیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے نیوکلیئر سیفٹی اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر عالمی دنیا نے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ کو یہ باور کروایا ہے کہ موثر جوہری دفاع پاکستان کے لیے نہایت ضروری ہے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ خطے میں عدم توازن پر پاکستان اپنے ردِ عمل ظاہر کرنے کے لیے کسی کا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ امریکہ کی قربت بڑھ رہی ہے اور اگر خطے میں عدم توازن ہوگا تو پاکستان امریکہ کو بار بار احساس دلاتا رہے گا۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات غور طلب رہے ہیں اور پچھلے 50 برسوں سے یہ تعلقات اونچ نیچ کا شکار رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان کی امریکہ سے بڑھتی ہوئی قربت ایک وسیع تر جغرافیائی سیاق و سباق کے تحت ہے لیکن امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات اب بھی اہم ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی سکیورٹی کو اتنی اہمیت نہیں دیتا جتنی دینی چاہیے۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ ’لیکن اگر انڈیا کے ساتھ روایتی یا سٹریٹیجک عدم توازن ہوتا ہے تو یہ امن کے لیے بھی خطرہ ہے اور ہمارے تعلقات بھی خراب ہوتے ہیں۔ ہم امریکہ کو بار بار اس کا احساس دلاتے رہیں گے۔‘

اسی بارے میں