رمضان سے منسلک کاروبار اور میڈیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوشلستان میں رمضان کے آنے سے مصروفیت کے اوقات میں تبدیلی آتی ہے جو سحری اور خصوصاً افطار کے دوران کچھ زیادہ ہی سرگرم ہو جاتا ہے۔ اس ساری صورت حال سے وہ حضرات مستثنیٰ ہیں جن کی روزی روٹی اسی کام سے جڑی ہے یا جن کا کام ہی ٹرینڈ بنانا ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں سوشلستان میں اس ہفتے کیا ہوتا رہا۔

رمضان سے وابستہ کاروبار

رمضان وہ مہینہ ہے جس کا صرف روزے دار ہی نہیں بلکہ وہ سب لوگ انتظار کرتے ہیں جن کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔ حالیہ چند سالوں میں اس فہرست میں رمضان کے سحری اور افطار کے شوز کا بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ جتنے چینل اتنے، رمضان کے شو۔ بلکہ ایک سے زیادہ شو فی چینل ملا کر رمضان شو میلہ روزانہ ہمارے ٹی وی سکرینوں پر سجتا ہے۔

ندیم فاروق پراچہ نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’شائقین، میں جلد ہی ٹی وی پر ایک رمضان شو کرنے والا ہوں، دوپٹے اور اچانک نمودار ہونے والی داڑھی کے ساتھ۔ میں آپ کو بتاؤں گا کہ کیسے نیک اور پاکیزہ زندگی گزارنی ہے اور پھر انعامات لٹاؤں گا۔‘

اس میدان میں ہر چینل ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتا ہے اور اس میں اداکار فنکار سب اچانک سے روح پرور موڈ میں آ جاتے ہیں، دوپٹے سروں پر، ڈیزائنر شیروانیاں نہ سہی تو کم از کم واسکٹ اس وارڈ روب کا خصوصی حصہ بن جاتی ہے۔

مگر عامر لیاقت جو پاکستانی ٹی وی چینلوں پر بہت سی چیزوں میں پہل کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتے ہیں، اس بار انھوں نے اپنے ناظرین کو مایوس نہیں کیا بلکہ مقابلہ کرنے والوں کو سب سے بڑی چنوتی دی ہے۔ شیروانی، اچکن، دوپٹے سب ماضی کی باتیں ہیں اس وارڈ روب کا نیا حصہ ہے سندھ رینجرز کی وردی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pak Ramzan

رمضان جس میں جہاد بالنفس پر زور دیا جاتا ہے کیا عامر لیاقت کی جانب سے اس کا فوکس دوسری جانب موڑنے کی کوشش ہے؟

اور بات یہیں ختم نہیں ہوتی، وہ کہتے ہیں نا آئسنگ آن دی کیک؟ اب کیا لکھوں خود ہی دیکھ لیں۔

اب یہ رمضان سے قبل اثاثے ظاہر کرنے کی کوشش ہے یا اس میدان میں برسرِپیکار دوسرے سورماؤں کو چیلنج؟ مگر قندیل بلوچ نے اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔

اب ریٹنگ کے لیے اس بڑھ کر بوسٹر کون دے سکتا ہے؟ اور ریٹنگ کے لیے کیا ہے جو ممکن نہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ Qandeel Baloch
Image caption یونیفام میں ملبوس عامر لیاقت کی اس تصویر کے بعد قندیل بلوچ نے اپنی تصویر اسی انداز میں کھینچ کر اپنے فیس بک پیج پر شیئر کی

کیسا دیا؟

رمضان پر مغرب اور پاکستان کا موازنہ

رمضان کا مہینہ آتے ہی ٹی وی چینلوں جیسے اپنے پرانی رپورٹیں نکال کر انھیں ری سائیکل کرتے ہیں تو ویسے ہی سوشلستان میں اصطلاحات اور تبصروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس بار دو ایسی چیزیں تھیں جن پر زور رہا۔ روزہ رکھنے والے ہوں یا نہ رکھنے والے سب نے زور و شور سے ایسی میمز (ایسی تصاویر یا تبصرے جو جنگل کی آگ کی طرح پھیل جائیں) اور تبصرے شیئر کیے جن میں مغرب کی غیر مسلم حکومتوں کا موازنہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت اور عوام سے کیا گیا۔

مثال کے طور پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل سے منسوب یہ بات کہ انھوں نے مسلمان کاروبار پر ٹیکس میں رعایت دے دی ہے تاکہ مسلمانوں کو سستی خوراک مل سکے۔

مگر یہ خبر مراکش کی ایک ویب سائٹ نے شائع کی جس نے رشیا ٹو ڈے عربی کو اس کا ماخذ بتایا جس نے ایک سعودی ویب سائٹ کو ذریعہ بنایا مگر اس ویب سائٹ کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔

جب ایک جرمن ماہرِ ٹیکس کرسچن ٹریڈ سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ’ایسی کوئی بات جرمنی میں نہیں اور نہ ہی حکومت یا چانسلر قانون سازی کے بغیر ایسا کر سکتی ہیں۔‘

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے مغربی ممالک کی منڈیاں چونکہ مسابقت کی روح سے چلتی ہیں اس لیے وہ گاہک کو خریداری کے لیے آمادہ کرتی ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں چونکہ حکومتی کنٹرول ہے اس لیے گاہک کے پاس اس حوالے سے بہت کم راستے ہوتے ہیں اور وہ اس کی قیمت رمضان کے مہینے میں بڑھتی قیمتوں کی صورت میں ادا کرتا ہے۔

ٹوئٹر پر کسے فالو کریں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ہر جمعے آپ کو ایک ایسے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے متعارف کروائیں گے جو سوشلستان پر کچھ مختلف کام کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اس ہفتے ملیے فریحہ عزیز سے جو ایک تنظیم ’بولو بھی‘ کی ڈائریکٹر ہیں اور انسانی حقوق خصوصاً انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر صارفین کے حقوق، سنسرشپ اور ایسے قوانین پر آواز اٹھاتی رہتی ہیں جن سے فردِ واحد کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔

فریحہ اس کیس کا اہم حصہ تھیں جس میں آئی ٹی اور ٹیلی کام کی بین الوزارتی کمیٹی کے قیام کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ پاکستان میں فریحہ ان چند افراد میں سے ایک ہیں جن کے پاس اس بارے میں علم بھی ہے اور انھیں فالو کرنے سے اس سلسلے میں بہت سی ایسی باتیں جان اور سمجھ سکتے ہیں جن سے آپ کی پرائیویسی اور حقوق منسلک ہیں۔

آخر میں ایک تصویر جس کے پیچھے کہانی پر کئی فلمیں اور ڈرامے بنے، اس کے باوجود یہ کہانی آج بھی اسی سفاکیت سے ہمارے ملک میں دہرائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بارے میں