سندھ بجٹ: 50 ہزار ملازمتیں اور کراچی کے لیے ماس ٹرانزٹ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

حکومت سندھ نے آئندہ مالی سال 17 _ 2016 کا مالی بجٹ پیش کردیا ہے، جس کا تخمینہ 869 ارب روپے لگایا گیا ہے، جس میں 225 ارب کے ترقیاتی پروگرام بھی شامل ہوں گے۔

اس کے علاوہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے سنیچر کو یہ بجٹ پیش کیا۔ دوران تقریر متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین شہر میں پانی کی قلت اور بدعنوانی کے خلاف نعرے لگاتے رہے۔

سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بڑے حصے کو چار ترجیحی شعبوں تعلیم، صحت، امن و امان اور بلدیاتی اداروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ آئندہ مالی سال میں 50 ہزار ملازمتیں دی جائیں گی، جن میں 20 ہزار اسامیاں محکمہ پولیس، دس ہزار محکمہ تعلیم اور 3500 اسامیاں محکمہ صحت میں پیدا کی جائیں گی۔

بجٹ کے مطابق اگلے سال تعلیم کے شعبے کے لیے 160.7 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس میں اعلیٰ تعلیم، اور ٹیکنیکل اور طبی تعلیم شامل ہے۔

2017 میں سات نئے ڈگری کالجوں کے علاوہ تمام اضلاع میں 25 کمپری ہینسو سکول اور 25 انگلش میڈیم سکول قائم ہوں گے۔ اس کے ساتھ جاپان کے ترقیاتی فنڈ سے 12 اضلاع میں 58 گرلز سکولوں کو اپ گریڈ کر کے ایلیمینٹری سکول بنایا جائے گا اور امریکی ترقیاتی فنڈ کے تحت 106 سٹیٹ آف آرٹ سیف سکول تعمیر ہوں گے۔

بجٹ میں محکمہ صعت کے لیے 65.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ادویات کی فراہمی میں ضروریات کے مطابق اضافہ کیا گیا ہے، تشخیصی، جراحی آلات، آکسیجن، ایکسرے مشین کی فلموں اور مریضوں کے غذائی اخراجات میں 35 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ اس مالی سال میں حیدرآباد، میرپور خاص میں میڈیکل کالج، ہالا میں طالب المولیٰ میڈیکل کالج اینڈ مینیجنگ ہسپتال جب کہ تھر پارکر میں پیرا میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی تعمیر ہو گی۔

اس کے علاوہ کراچی میں بچوں کے دل کے امراض کے لیے انسٹیٹیوٹ اور سکھر میں کوریا سے ملنے والے آسان قرضے سے بچوں کا ہپستال تعمیر کیا جائے گا۔

تھر میں حکومت بچوں میں غدائی قلت کی موجودگی سے انکار کرتی رہی ہے، لیکن بجٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ کے نو اضلاع میں نیوٹریشن سپورٹ پروگرام شروع کردیا گیا ہے۔

سندھ کے محکمہ داخلہ کے بجٹ میں 14.4 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق پولیس، محکمہ جیل خانہ جات اور رینجرز کے لیے 82 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ وہ پولیس اہلکار جو فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں ان کا معاوضہ 20 لاکھ سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ شہدا کوٹے پر ایک فرد کو ملازمت بھی دی جائے گی۔

صوبائی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پولیس میں تربیت کے لیے بایو میٹرک نظام متعارف کرایا گیا ہے اور نصاب میں بھی خصوصی مضامین شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ تفتشیی پولیس کے لیے جی ایس ایم لوکیٹرز کی خریداری کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، اور انٹیلی جنس کے باہمی مکینزم کو مزید بہتر بنانے کے لیے سپیشل برانچ میں 28 کروڑ کی لاگت سے ایک ڈیٹا سینٹر اور ایک انٹیلی جنس سکول بنایا جائے گا۔

سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ حکومت سندھ نے اب تک ونڈ پاور کے نو منصوبے 309 میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت کے ساتھ مکمل کرلیے ہیں جبکہ مزید نو منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ اس کے علاوہ شمسی توانائی کے 24 منصوبے بنائے ہیں جن میں سے نیشنل گرڈ میں 1450 میگا واٹ بجلی شامل ہو سکے گی۔

بجٹ میں کراچی میں ماس ٹرانزٹ منصوبوں، فلائی اورز اور انڈس پاسز کی تعمیر کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ہے، جس کے مطابق ماس ٹرانزٹ منصوبے کے تحت داؤد چورنگی سے شاہراہ قائدین تک 16 ارب روپے کی لاگت سے یلو لائن، اورنگی ٹاؤن آفس سے بورڈ آفس ناظم آباد تک 35 کروڑ کی لاگت سے اورنج لائن، اسکاروٹ ماڈل کالونی سے پیپلز چورنگی تک ریڈ لائن بس سروس شروع ہوگی جس پر 12 سے 15 ارب روپے لاگت آئے گی۔

اس کے علاوہ سرجانی سے میونسپل پارک ایم اے جناح روڈ تک گرین لائن منصوبہ شرو ع کیا جارہا ہے، جس پر 16 ارب روپے لاگت آئے گی جو وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ سندھ کے آٹھ شہروں میں سپورٹس سٹیڈیموں کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے گا، محراب پور میں کرکٹ سٹیڈیم تعمیر ہو گا، جب کہ سکھر میں سپورٹس کمپلیکس بنایا جائے گا اور دیگر شہروں میں ہاکی ٹرف بچھائی جائے گی۔

اسی بارے میں