طور خم پر کشیدگی، سکیورٹی اہلکاروں سمیت 11 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاک افغان سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

حکام کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے طورخم میں افغان فورسز کی طرف سے پاکستانی علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں ایف سی کے دو اہلکار اور نو عام شہری زخمی ہو گئے۔

اتوار کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی طرف سے اتوار کی شام جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق نو بج کر بیس منٹ پر افغان سکیورٹی فورسز کی طرف سے اچانک پاکستان کی طرف واقع طورخم گیٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔

٭ جنرل راحیل شریف کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی

٭’پاکستان کا طورخم پر سفری رعایت دینے پر غور‘

طورخم کے تحصیل دار غنچہ گل نے بی بی سی کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ پیر کی صبح چار بجے تک جاری رہا جبکہ اس وقت علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں دو ایف سی اہلکار اور نو عام شہری زخمی ہو گئے ہیں جبکہ افغان علاقے میں ہونے والے نقصان کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔

مقامی ذرائع کے مطابق طورخم پر کشیدگی کے باعث دونوں جانب سرحد عبور کرنے کے لیے آنے والے افراد پھنس گئے ہیں۔

اتوار کو آئی ایس پی آر کے مطابق افغان علاقے سے کچھ عرصہ سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہونے کے لیے طورخم کا راستے آزادانہ طور پر استعمال کرتے رہے ہیں لہذا اس غیر قانونی داخلے کو روکنے کے لیے پاکستان کی طرف سے سرحد پر گیٹ کی تعمیر شروع کی گئی تاکہ اس غیر قانونی داخلے کو روکا جاسکے۔

طورخم کے آس پاس رہنے والے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں فریقین کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستانی حکام کی طرف سے طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا تھا

خیال رہے کہ پاک افغان سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

چند دن پہلے بھی پاکستانی حکام کی طرف سے طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی تھی۔

تاہم بعد میں پاکستانی حکام کی جانب سے سفری پابندیوں میں کچھ نرمی کردی گئی تھی۔

اس سے قبل اپریل میں بھی پاکستانی حکام نے سفری دستاویزات کی سخت چیکنگ کا سلسلہ شروع کیا تھا اور حکام نے افغانستان سے غیر قانونی طور پر خفیہ راستوں سے پاکستان داخل ہونے کی کوششوں کو روکنے کے لیے طورخم سرحد پر باڑ کی تنصیب کا کام شروع کیا تھا۔

تاہم رواں ماہ کے دوران باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے سرحد چار دن تک بند کردی گئی تھی۔

قبل ازیں مئی کے مہینے میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر عمر زخیلوال اور پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے درمیان ملاقات میں سرحد کھولنے پر اتفاق ہوا تھا۔

اسی بارے میں