طورخم پر پاک افغان افواج کے درمیان دوبارہ جھڑپ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاک افغان سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر ایک مرتبہ پھر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔

یہ تنازع پاکستان کی جانب سے سرحد پر ایک گیٹ کی تعمیر پر شروع ہوا ہے اور اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں ایک افغان فوجی ہلاک جبکہ 11 پاکستانیوں سمیت 17 افراد زخمی ہوئے تھے۔

٭ ’افغانستان اور پاکستان طورخم میں فائر بندی پر متفق‘

٭ جنرل راحیل شریف کا فیصلہ، طورخم سرحد کھول دی گئی

٭ ’پاکستان کا طورخم پر سفری رعایت دینے پر غور‘

طورخم کے تحصیل دارغنچہ گل نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ پیر کی شام ایک بار پھر افغان جانب سے فائرنگ شروع ہوئی جس کے جواب میں پاکستانی فوجیوں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے گیٹ کی تعمیر دوبارہ شروع کیے جانے پر ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR

اس سے قبل افغانستان کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا تھا کہ طورخم میں پاکستان اور افغانستان کی سرحدی افواج کے درمیان جھڑپ کے بعد دونوں ممالک نے فائربندی پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان نے اتوار کی شب فائرنگ کے واقعے پر پیر کو اسلام آباد میں تعینات افغان ناظم الامور کو بھی طلب کیا تھا اور ان سے افغان فوج کی پاکستانی افواج پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج کیا گیا۔

پیر کو دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو بتایا گیا کہ فائرنگ کا واقعہ دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کی روح سے متصادم تھا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کرے اور نتائج سے پاکستان کو آگاہ کرے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔

بیان کے مطابق اتوار کو ہونے والی فائرنگ کا مقصد ایک ایسے دروازے کی تعمیر روکنا تھا جو پاکستانی حدود کے اندر تعمیر کیا جا رہا ہے اور جس کا مقصد عوام اور گاڑیوں کی سرحد کے آر پار نقل و حمل کو آسان بنانا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغان سفارتکار کو بتایا گیا کہ طورخم کی سرحد پر نقل و حمل کی نگرانی پاکستانی حکومت کی بارڈر مینجمنٹ کو مضبوط بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں پاکستان افغان حکومت کا تعاون چاہتا ہے کیونکہ اس سے دونوں ممالک کی سکیورٹی میں بہتری آئے گی اور دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

پیر کو ہی پاکستان کے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو افغان سکیورٹی فورسز کی جانب سے سرحد پر بلااشتعال فائرنگ کے واقعے پر شدید تشویش ہے۔

وزیرِاعظم ہاؤس کے ترجمان نے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ اس قسم کے بلااشتعال حملے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں اور پاکستان کو افغان حکومت سے امید ہے کہ وہ اس واقعے کی فوری تحقیقات کرے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کی شب پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق نو بج کر بیس منٹ پر افغان سکیورٹی فورسز کی طرف سے اچانک پاکستان کی طرف واقع طورخم گیٹ پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

طورخم کے تحصیل دار غنچہ گل نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ پیر کی صبح چار بجے تک جاری رہا جبکہ اس وقت علاقے میں کرفیو نافذ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں دو ایف سی اہلکار ہلاک اور نو عام شہری زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر گذشتہ کچھ عرصہ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ماہ ہی باڑ کی تنصیب پر دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کی وجہ سے سرحد چار دن تک بند رہی تھی۔

چند دن پہلے پاکستانی حکام کی طرف سے طورخم کے مقام پر سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال کے عمل پر سختی سے عمل درآمد شروع کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے سرحد پار آنے جانے والوں کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی تھی۔

تاہم بعد میں پاکستانی حکام کی جانب سے سفری پابندیوں میں کچھ نرمی کردی گئی تھی۔

اسی بارے میں