ڈیورنڈ لائن سے بارڈر مینیجمنٹ تک

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

برصغیر میں برطانوی دورِ حکومت کے دوران بننے والی سرحد جسے ڈیورنڈ لائن کا نام دیا گیا پر پاکستان اور افغانستان شروع سے ہی الگ الگ موقف رکھتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان نے سرحد پر باڑ لگانےاور گیٹ کی تعمیر کی کوشش کی اور مکمل سفری دستاویزات کے بغیر پاک افغان سرحد پار کرنے کی اجازت نہ دیے جانے کا اعلان کیا تو پہلے سے خراب دو طرفہ تعلقات اس نہج تک پہنچ گئے کہ دونوں جانب موجود افواج کی سرحدوں پر جھڑپیں شروع ہوئیں اور تجارت معطل ہوگئی۔

#طور خم کشیدگی برقرارپاکستان کا طور خم پر سفری رعایت دینے پر اتفاق

کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار سید انور کے مطابق ’کوئی نئی پیش رفت تو نہیں خبر یہی ہے کہ ادھر بھی مورچے ہیں اور ادھر بھی مورچے ہیں، افغان وزارتِ خارجہ نے پاکستانی سفیر کو کل بلا کر احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔‘

اس صورتحال سے روزانہ کی بنیاد پر سرحد پار کرنے والے ہزاروں افغان اور پاکستانی تاجروں کا کاروبار متاثر ہو رہا ہے، نہ تو سرحد کے دونوں اطراف میں بسنے والے خاندان ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں اور نہ ہی پاکستانی ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے افغان شہریوں کو یہاں داخلے کی اجازت ہے۔

دونوں جانب ایک، ایک فوجی کی ہلاکت ہوئی۔ سرحد کے قریب زیادہ آبادی نہیں تاہم علاقے کے مکینوں کو کشیدگی کے پہلے روز ہی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کو کہہ دیا گیا تھا۔ جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ کرفیو کی زد میں ہیں۔

لیکن کیا دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے راستے بند تھے؟ کیا آپس کے مذاکرات میں اس مسئلے کو سلجھانا اتنا مشکل تھا کہ انھیں سرحد پر حریف بن کر ایک دوسرے پر فائرنگ کرنا پڑی؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار سلیم صافی کہتے ہیں کہ ایک لحاظ سے تو یہ مقامی نوعیت کا معاملہ لگتا ہے کیونکہ یہ صورتحال صرف طور خم باڈر پر نظر آرہی ہے مگر وہ چمن اور نوا پاس کے کراسنگ پوائنٹس پر نہیں ہے۔ مگر تناؤ میں اضافے کی ایک وجہ دونوں ممالک کی مجموعی پالیساں اور ملا منصور کی موت کے بعد کی صورتحال ہے۔‘

سلیم صافی کہتے ہیں کہ افغان حکومت کے بعض عناصر ڈیورنڈ لائن کے تاریخی تناظر میں لیتے ہیں اور اس جانب سے پاکستان کی باڈر مینیجمنٹ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو روکا جا رہا ہے جس کا نقصان دونوں ممالک کو ہورہا ہے۔

123 برس قبل طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تقریباً 2200 کلومیٹر طویل پاک افغان سرحد کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ پاکستانی حکام کا یہ گلہ رہا ہے کہ ان کی جانب موجود 600 سے زائد چوکیوں کے برعکس سرحد پار صرف چند درجن چوکیاں ہیں جو دہشت گردی اور سمگلنگ کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہیں۔

افغانستان میں پاکستان کے سابق سفیر طارق عزیزالدین کہتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان دونوں خود مختار ملک ہیں اور قانونی طور پر اپنی سرحدوں پر اپنے قوانین نافذ کر سکتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ 1893 میں ڈیورنڈ کو بنایا گیا تھا اور اس وقت برٹش انڈین گورنمنٹ اور گورنمنٹ آف افغانستان اس وقت امیر عبد الرحمن نے اس پر دستخط کیے اور بعد میں انھوں نے ایک نہیں پھر تین تین بادشاہوں کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کیے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ دستاویزات کے ساتھ سرحد پار کرنا قانوناً ضروری ہے۔ ’اس معاہدے میں کہیں یہ نہیں لکھا گیا تھا کہ پانچ میل کے علاقے کے لوگ آزادانہ طور پر سرحد کے دونوں جانب جا سکیں گے یہ صرف ایک زبانی بات چیت تھی۔‘

سلیم صافی کہتے ہیں کہ 60 سے 70 سال سے پاکستان اور افغانستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کو سرحد ہی سمجھا جاتا رہا ہےاس پار افغان امگریشن اور اس پار پاکستانی امگریشن کی ٹیمیں بیٹھی ہوتی ہیں۔

کیا کبھی اس دیرینہ مسئلے کو افغانستان میں موجود عالمی طاقتوں کی مدد سے سنجیدگی سےحل کرنے کی کوئی خاطرخواہ کوشش کی گئی؟

سلیم صافی کا کہنا ہے کہ چیکر معاہدے کی وجہ سے اس معاملے میں پاکستان کی اخلاقی پوزیشن مضبوط ہے۔

’2013 میں پاکستانی صدر زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان چیکر ایگریمینٹ طے پایا تھا اور اس میں برطانوی وزیراعظم ضامن کے طور پر موجود تھے۔ اس میں افغان صدر نے باڈر مینیجمنٹ پر اتفاق کیا تھا۔‘

تجزیہ نگار موسی خان جلال زئی نے بی بی سی کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں افغان رہنما اور پاکستان کے قوم پرست لیڈر ڈیورنڈ لائن پر سیاست کرتے رہے۔

’اقوامِ متحدہ نے تو اسے ایک بین القوامی سرحد تسلیم کر لیا ہے لیکن افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب کے بعد نور محمد ترکئی، ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب اللہ تک کے لوگوں نے پاکستان کو یہ باور کروایا کہ اس مسئلے کو حل کیا جائےگا، صدر داؤد نے بھی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پیشکش کی تھی کہ اس مسئلے کو حل کیا جائے گا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ دراصل افغانستان میں ڈیورنڈ لائن پر رائے ہی بٹی ہوئی ہے۔

’افغانستان میں شدید اختلاف ہے ، پشتونوں کا ایک خاص طبقہ چاہتا ہے کہ اٹک تک کا علاقے ان کے حوالے کیا جائے، لیکن 70 فیصد لوگ ڈیورنڈ لائن کو ایک فضول چیز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر افغانستان اپنے ملک اپنے ایک صوبے اور ڈسٹرکٹ کو کنٹرول نہیں کر سکتے تو پھر طور خم سے اٹک تک کے علاقے کو کیسے کنٹرول کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پھر اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

افغانستان میں سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند کا خیال ہے کہ فوری طور پر افغانیوں کی پاکستان آمدورفت کو بند کرنا نامناسب فیصلہ ہے اور مستقبل میں اس کے منفی اثرات پڑیں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ماضی میں جب گیٹ لگائے جاتے تھے تو تنظیمی امور کے حوالے سے دونوں جانب حکام ایک دوسرے کا آگاہ کرتے تھے۔ ’بہتر تھا کہ پہلے افغان حکام کو اعتماد میں لیا جاتا تو میں سمجھتا ہوں کہ کوئی مسئلہ نہ ہوتا، اب دونوں ممالک ایک دوسرے پر پہل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، اس کا جلد حل یہی ہے کہ ایک کمیشن بنائیں جو دو سے تین دن میں تعین کرے کہ پہل کس نے کی؟‘

رستم شاہ مہمند سمجتھے ہیں کہ باڈر کا مسئلہ تو حل ہو ہی جائے گا لیکن بہت سے ایسے مسائل ہیں جن کا حل ہونا مشکل نظر آتا ہے۔

ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ مسائل سمجھنے کی کوشش کرے، ذمہ داری کا مظاہرہ کرے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ افعانستان میں پاکستان کے حوالے سے منفی جذبات کیوں ہیں، بھارت پسندیدہ ممالک میں 74 فیصد جبکہ پاکستان کے لیے یہ تناسب ساڑھے چار فیصد کیوں ہے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ طاقت کا استعمال دونوں جانب موجود کشیدگی کو طول تو دے سکتا ہے لیکن کم کرنے میں مدد نہیں کر سکتا۔ ایسے میں بات چیت ہی تعلقات، سرحدی صورتحال کو بہتری کی راہ پر لاسکتی ہے کیونکہ دہشت گردی کی صورت میں جس خطرے نے دونوں ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس کے لیے تعاون اور اعتماد کی عدم موجودگی میں نقصان دونوں ممالک کو اٹھانا پڑے گا۔

اسی بارے میں