’زینت کی زندگی بہت مشکل تھی‘

Image caption زینت کو شاید بہتر مستقبل کی امید تھی لیکن تمام خواب راکھ ہوگئے

زینت رفیق کے شوہر کے ہاتھوں میں ان کی بس یہ چند تصاویر ہی رہ گئی ہیں جو شادی سے چند دن قبل لی گئی تھیں ـ وہ خالی خالی آنکھوں سے بار بار اپنے فون پر انھیں دیکھ رہے ہیں۔

ایک تصویر میں زینت مسکرا رہی ہیں، تازہ مہندی لگے ہاتھوں کو کیمرے کے سامنے پیش کر رہی ہیں ـ وہ خوش دکھ رہی ہیں کیونکہ شاید انھیں لگا کہ وہ آخرکار اپنی زندگی اپنی مرضی سے جی پائیں گی۔ ان کے شوہر حسن خان اور زینت رفیق بچپن سے دوست بھی تھے اور سکول میں ہم جماعت بھی۔

حسن نے بتایا کہ وہ بچپن سے گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی آ رہی تھیں۔ ’جب وہ میرے گھر شادی کے بعد آئی تب بھی اس کے چہرے پر نیل اور زخم تھے، ناک سے خون بہہ رہا تھا۔‘

زینت کو شاید بہتر مستقبل کی امید تھی لیکن تمام خواب اور عزائم راکھ ہو گئے جب ان کے اپنے گھر والوں نے پسند کی شادی کے نتیجے میں انھیں زندہ جلا دیا۔ مبینہ قاتلوں میں ان کی والدہ اور بھائی شامل ہیں جو اب پولیس کی حراست میں ہیں۔

ان کے شوہر حسن خان بار بار اپنے ہاتھ میں بندھا بریسلٹ گھما رہے ہیں جو زینت آخری بار ان سے جدا ہوتے ہوئے ان کو تحفے میں دے کر گئی تھیں۔ حسن خان نے کہا کہ ’اس کی زندگی بہت مشکل تھی، میرے سے شادی کرنا اس کا واحد فیصلہ تھا جو اس نے خود لیا۔ وہ اتنی خوش تھی ، ہم دونوں کے اتنے خواب تھے لیکن اس کے خاندان نے ہم سے سب کچھ ہی چھین لیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زینت کے شوہر حسن نے بتایا کہ وہ بچپن سے گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی آ رہی تھیں

گذشتہ چند ہفتوں میں یکے بعد دیگرے تین لڑکیوں کو بے دردی سے مبینہ طور پرغیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے حقوق نسواں کے فروغ کے لیے قانون سازی کو اہم آئینی اور نظریاتی اداروں نے عمل درآمد سے پہلے ہی متنازع بنا دیا۔ انہی اداروں اور دیگر پارلیمانی شخصیات کی جانب سے خواتین اور ان کی صنف کو نشانہ بناتے ہوئے متنازع بیانات ذرائع ابلاغ میں نظر آئے۔

حال ہی میں ایک نجی چینل کے ٹاک شو میں جماعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر حافظ حمدااللہ اور حقوق نسواں کے لیے سرگرم کارکن ماروی سرمد کے درمیان شدید تلخ کلامی دکھائی گئی۔ حمداللہ نے ابتدا ہی میں ماروی کو گرج کر کہا کہ ’میں آپ کو بولنے نہیں دوں گا۔‘

اس کے علاوہ جس طرح کے الفاظ استعمال کیے گئے، مبصرین کا کہنا ہے کہ ان میں خاص طور پر ماروی کی صنف کو نشانہ بنایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مردوں کے افضل ہونے کی بیمار ذہنیت بگڑتے حالات کو مزید بد تر کرنے میں مدد دے رہی ہے؟

اندازہ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کےاعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے جہاں گذشتہ سال میں 1096 غیرت کے نام پر قتل، تقریباً 300 گھریلو تشدد کے کیس اور خواتین کے خلاف درجنوں جرائم ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 70 سے 80 فیصد خواتین ذہنی یا جمسانی تشدد کا سامنا کر چکی ہیں۔

حکومت عورتوں کے حقوق اور تحفظ کی حوالے سے بار ہا کوشش کرتی رہی لیکن یہ معاملہ ہمیشہ قدامت پسند مذہبی گروہوں کے اعتراضات کے درمیان ایک سیاسی رسہ کشی کا میدان ہی بنا رہا۔ دوسری جانب خواتین کے خلاف جرائم میں سزاؤں کی شرح نہ ہونے کے برابر رہی۔

Image caption ایک تصویر میں زینت مسکرا رہی ہیں، تازہ مہندی لگے ہاتھوں کو کیمرے کے سامنے پیش کر رہی ہیں

انسانی حقوق کے لیے سرگرم وکیل حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ ’عورتوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اگر حکومت خود ایسی قوتوں کے دباؤ کے آگے جھک جائے گی جو اس بات پر پر عزم ہیں کہ عورت کو معاشرے میں عزت اور تحفظ نہ ملے، تو یہ ریاست کی کمزوری ہے۔‘

پنجاب کمیشن برائے خواتین کی سربراہ فوزیہ وقار کا خیال ہے کہ حکومت قانون سازی تو کر رہی ہے لیکن خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے لیے کوششیں ابھی ناکافی ہیں۔

وہ کہتی ہیں: ’یہ ہزاروں سال کی ذہنیت ہے اس کو تبدیل کرنے میں وقت لگے گا، ابھی تک یہی سمجھا جاتا ہے کہ عورت کو اگر آدمی گھر کی چار دیواری میں مارتا ہے تو یہ اس کا حق ہے ـ بلکہ حال ہی میں عورتوں پر گھریلو تشدد کے قانون پر اسلامی نظریاتی کونسل کے اعتراضات کے بعد خواتین پر تشدد کو ہوا ملی ہے۔‘

اس عدم توازن کی قیمت حالیہ عرصے میں تین نوجوان لڑکیوں نے اپنی زندگی کی راکھ سے ادا کی ہے ـ کیا ایک مرد غلبہ ذہنیت اور سماجی بے حسی کو تبدیل کرنے کے لیے ریاست اپنی ذمہ داری نبھا پائے گی یا زینت رفیق جیسی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ حقوق نسواں کا جنازہ بھی اٹھ چکا ہے؟

اسی بارے میں