مشتاق رئیسانی کے ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نیب نے اب تک سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر اور ایک بیکری سے 65کر وڑ 75 لا کھ روپے بھی برآمد کیے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں موجودہ حکومت کے دور میں ہونے والی بدعنوانی کے بڑے مقدمے میں سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے ریمانڈ میں احتساب عدالت نے مزید 14 یوم کی توسیع کر دی ہے۔

مشتاق رئیسانی کو چھ مئی کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت سے نیب کی تحویل میں تھے۔

* مشتاق رئیسانی کرپشن سکینڈل، ’مزید 57 لاکھ روپے برآمد‘

سابقہ ریمانڈ کے خاتمے پر نیب حکام نے بدھ کو دوبارہ سابق سیکریٹری کو احتساب عدالت میں پیش کیا۔

احتساب عدالت کے جج مجید ناصر نے انھیں نیب کی درخواست پر مزید 14 روز کے ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

محکمہ بلدیات بلوچستان کے فنڈز میں ڈیڑھ ارب روپے سے زائد کی خرد برد کے الزام میں یہ مقدمہ سابق سیکرٹری خزانہ اور دیگر ملزمان کے خلاف دائر کیا گیا ہے۔

اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے میونسپل کمیٹی خالق آباد کے سابق اکاؤنٹنٹ ندیم اقبال کو بھی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔

عدا لت نے ندیم اقبال کو بھی 14 روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوا لے کر دیا۔

اس مقد مے میں اب تک وزیر اعلیٰ بلوچستان کے سابق مشیر خزانہ میر خالد لانگو اور سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی سمیت چھ ملزمان کی گرفتار ی عمل میں آئی ہے۔

نیب نے اس مقدمے میں اب تک سابق سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے گھر اور ایک بیکری سے 65 کروڑ 75 لا کھ روپے بھی برآمد کیے ہیں۔

اسی بارے میں