’طاہرالقادری فوج کی پوزیشن خراب کر رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے وطن واپس پہنچنے پر دو سال قبل ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے کارکنوں کی دوسری برسی کے موقعے پر 17 جون کو لاہور کے مال روڈ پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

بدھ کو کینیڈا سے وطن واپسی کے بعد لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ 17 جون کو سانحہ ماڈل ٹاؤن میں مارے جانے والے کارکنوں کے لیے انصاف کے حصول کی خاطر لاہور کے مال روڈ پر احتجاج کیا جائے گا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے جنرل راحیل شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ان کا کام نہیں تھا مگر انھوں نے ایف آئی آر کٹوائی۔‘

٭ ڈاکٹر طاہرالقادری 17 جون کو لاہور میں دھرنا دیں گے

٭ توسیع پر یقین نہیں رکھتا: جنرل راحیل شریف

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے طاہر القادری نے کینیڈا سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’آرمی چیف نے وعدہ کیا تھا کہ انصاف دلائیں گے، وہ اپنے وعدے کو پورا کریں، ریٹائرمنٹ سے پہلے انصاف نہ دلایا تو وہ اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوں گے۔‘

ایک مرتبہ پھر ایک ایسے وقت پر دھرنے کا اعلان کیا گیا ہے جب پاکستان کی بری فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت ختم ہو نے والی ہے۔

تو کیا ڈاکٹر طاہر القادری کے اس دھرنے اور آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا آپس میں کوئی تعلق ہے؟

اس سوال کے جواب میں سینیئر صحافی اور تجزیہ کار راشد رحمان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ انھوں نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا ہے یا اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل راحیل شریف نے ایک پروفیشنل سپاہی کے طور پر فیصلہ کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ ان کے ادارے کے لیے بہتر ہے۔‘

راشد رحمان نے مزید کہا کہ ’ماضی میں جب بھی ایکسٹینشن ہوئی ہے تو اس سے اعلیٰ کمانڈ پر فرق پڑتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے مواقع ختم ہو جاتے ہیں۔‘

’اگر طاہر القادری یہ امید لگائے ہوئے ہیں کہ انھیں آرمی چیف کی طرف سے کوئی سپورٹ ملے گی تو میرے خیال میں اس وقت فوج خود کو اور ملک کو درپیش مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘

سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی کا کہنا ہے کہ ’بظاہر طاہر القادری کا یہی کہناہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی دوسری برسی کے موقعے پر انصاف طلب کرنے آئے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان اس بار طاہر القادری کے دھرنے میں شریک نہیں ہو رہے ہیں

عارف نظامی کے مطابق: ’اصل بات یہ ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان کا ایجنڈا ایک ہی ہے اور اس وقت وزیر اعظم نواز شریف کی پاناما لیکس اور صحت کی وجہ سے کمزور پوزیشن میں ہیں اور ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ فوجی قیادت اور وہ ایک پیج پر نہیں ہیں۔

’آٹھ ماہ بعد طاہر القادری یہ جواز بنا کر کہ دو سال ہوگئے ہیں انصاف نہیں ملا، فوج کی پوزیشن بھی خراب کر رہے ہیں اور یہی تاثر دے رہے ہیں کہ جیسے فوج کا وعدہ نواز شریف کو ہٹانے کا ہے۔‘

راشد رحمان کا کہنا ہے کہ ’طاہر القادری کی سیاست کا انحصار اس بات پر ہے کہ جو نتائج وہ انتخابات کے ذریعے نہیں حاصل کر سکتے ان کے خیال میں وہ احتجاج کے ذریعے حاصل کریں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شاید اس بار طاہر القادری کا دھرنا زیادہ فعال نہ ہو سکے کیونکہ ان کی اتحادی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ان کا ساتھ دھرنے میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیاہے۔

’طاہر القادری اس پوزیشن میں نہیں کہ حکومت کو ہٹا سکیں۔‘

اسی بارے میں