پناہ گزینوں اور میزبانوں کی سانجھی زندگی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حکومت کی جانب سے جنوبی وزیرستان کے متاثرین کے لیے کوئی کیمپ نہیں لگایا گیا

ڈیرہ اسماعیل خان میں درابن روڈ پر ایک مکان میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد رہائش پذیر ہیں۔

یہاں کے مکینوں میں قبائلی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کے ساتھ ساتھ انھیں پناہ دینے والے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔

٭ شدت پسندی اور فوجی آپریشن سے تعلیم متاثر

٭ ’طالبان کے ڈر کا خاتمہ ضربِ عضب کی سب سے بڑی کامیابی‘

اس مکان میں ایک خاندان نے دوسرے کو مجبوری کے عالم میں پناہ دی اور پھر ساتھ رہنے لگے۔

ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں متعدد ایسے مکانات ہیں جہاں پہلے سے آباد رشتہ دار اور دوست میزبان جبکہ نقل مکانی کرنے والے متاثرین مہمان ہیں اور یہ رشتہ سات سالوں سے قائم ہے۔

وحید اللہ نے جب جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے نتیجے میں نقل مکانی کی تو انھیں ایک رشتہ دار نے پناہ دی اور اب ان کی زندگی سانجھی ہے۔

55 سالہ وحید اللہ کہتے ہیں ان سات سالوں میں انھوں نے بہت مشکل حالات دیکھے ہیں اور اپنے وطن اور اپنے گھر جیسی کوئی جگہ نہیں ہو سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس مکان میں خواتین اور بچوں سمیت 18 افراد رہائش پذیر ہیں

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں اپنے رشتہ دار کے ساتھ رہتے ہیں، انھیں حکومت کی جانب سے امداد بھی ملتی ہے اور وہ خود مزدوری بھی کرتے ہیں لیکن یہ ان کا اپنا وطن نہیں ہے۔

ان کے مطابق اگر انھیں رات کے وقت بھی کہا جائے کہ وہ اپنے وطن چلے جائیں تو شاید وہ اسی وقت روانہ ہو جائیں گے۔

وحیداللہ نے بتایا کہ وہ پہلے ایک رشتہ دار کے ہاں کچھ عرصہ رہے اور پھر چچا زاد بھائی کے ساتھ یہاں درابن روڈ پر رہنے لگے۔

ان کے میزبان مہتاب کا کہنا ہے کہ بس مل کر گزارہ کر رہے ہیں اور محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’گھر میں بچے لڑتے بھی ہیں اور پھر خود ایک دوسرے کو منا لیتے ہیں بڑے اس معاملے میں نہیں بولتے۔‘

قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں نقل مکانی کرنے والے بیشتر نوجوان تعلیم چھوڑ کر مزدوری پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان ایجنسی میں فوجی آپریشن راہ نجات کو سات سال ہو چکے لیکن اب تک صرف 32 فیصد متاثرین ہی واپس اپنے علاقوں کو جا سکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایک خاندان نے دوسرے کو مجبوری کے عالم میں پناہ دی اور مشترکہ طور پر رہنے لگے

جنوبی وزیرستان ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹکل افسر محمد شعیب نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرین کی واپسی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں اور رواں سال کے آخر تک تمام قبائلی علاقوں کے متاثرین واپس اپنے علاقوں کو چلے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 72 ہزار رجسٹرڈ خاندانوں اور کوئی اتنی ہی تعداد میں غیر رجسٹرڈ متاثرین نے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں پناہ حاصل کی تھی۔

قبائلی علاقوں میں گذشتہ دس برسوں سے فوجی آپریشن جاری ہیں جس سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، ایک نسل تعلیم سے محروم رہی اور گھر بار تباہ ہوئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اتنی قربانیوں کے بعد کیا انھیں ایک بہتر مستقبل میسر آ سکے گا؟

اسی بارے میں