لاہور میں دھرنے کے لیے سٹیج سج گیا

Image caption طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ وہ کارکنوں کے قتل پر انصاف کے لئے ایک بار پھر لاہور میں دھرنا دے رہے ہیں

لاہور کی معروف اور اہم ترین شاہراہ مال روڈ پر پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کے تمام انتظامات مکمل کرلےگئے ہیں۔ پاکستان عوامی تحریک یہ دھرنا دو سال قبل لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں مارے جانے والے کارکنوں کو تاحال انصاف نہ ملنے کے خلاف دیا جا رہا ہے۔

دھرنے کی قیادت کے لیے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری خصوصی طور پر کینیڈا سے پاکستان آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 17 جون 2014 کو پولیس نے گولیاں چلا کر ان کے 14 کارکنوں جان سے ماردیا لیکن قاتل اب بھی آزاد ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر آرمی چیف راحیل شریف کی مداخلت پر درج کی گئی اور حکومت نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کو عام کرنے کی بجائے جے آئی ٹی تشکیل دے اپنے آپ کو کلیئر کرانے کی کوشش کی ہے۔

طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ وہ کارکنوں کے قتل پر انصاف کے لیے ایک بار پھر لاہور میں دھرنا دے رہے ہیں، تاہم وہ یہ بتانے سے گریز کررہے ہیں کہ دھرنا ایک دن کا ہوگا یا طویل۔

دھرنے کے لیے سٹیج مال روڈ الفلاح بلڈنگ سامنے لگایا گیا ہے جس کا رخ مسجد شہدا کی جانب ہے۔ شرکا کے لیے ریگل چوک تک کرسیاں اور دریاں بچھائی گئی ہیں، لاؤڈ سپیکر اور لائٹنگ کا وسیع پیمانے پر بندوبست کیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ 17 جون 2014 کو پولیس نے گولیاں چلا کر ان کے 14 نہتے کارکنوں جان سے ماردیا

خواتین کے لیے پنڈال کا دایاں حصہ مختص کیا گیا ہے جس کی سکیورٹی کے لیے لیڈیز پولیس کے ساتھ عوامی تحریک کے کارکنوں کو بھی ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں، جبکہ دھرنے کے شرکا کے لیے بھاری تعداد میں پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ عوامی تحریک کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات عبدالحفیظ چوہدری کے مطابق عوامی تحریک کے دو ہزار کارکن دھرنے میں سکیورٹی کی ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔

عوامی تحریک کے مرکزی قائدین اور دھرنے میں شریک ہونے والے دیگر سیاسی جماعتوں کے راہنماؤں کے سٹیج تک پہنچنے کے لیے واپڈا ہاؤس کے قریب سے انٹری پوائنٹ بنایا گیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کےلیے خصوصی طور پر بنایا گیا بلٹ پروف ایئرکنڈیشنڈ کنٹینر بھی دھرنے کے مقام پر پہنچا دیا گیا ہے جبکہ میڈیا کے لیے سٹیج کے بالکل سامنے انتظامات کیے گئے ہیں۔

عبدالحفیظ چوہدری نے بتایا کہ دھرنے کا باقاعدہ آغاز افطاری اور نماز مغرب کے بعد ہوگا۔ شرکا عشا کی نماز اور تراویح بھی پنڈال ہی میں ادا کریں گے جس کے بعد عوامی تحریک اور دیگر سیاسی قائدین کے خطابات شروع ہوں گے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا خطاب سحری سے قبل ہوگا جس میں وہ دھرنا جاری رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

عبدالحفیظ چوہدری کا کہنا ہے کہ دھرنے میں شرکت کرنے والے 50 سے 60 ہزار افراد کی سحری کا وسیع بندوبست کیا گیا ہے اور تمام شرکا کو بہترین سحری مہیا کی جائے گی۔

مال روڈ پر دھرنے کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کو بہت زیادہ رش ہے اور جگہ جگہ ٹریفک بلاک ہے۔

اسی بارے میں