آواران کے ہلاک شدگان کی لاشیں ورثا کے حوالے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع آواران میں ان پانچ افراد کی لاشیں سویلین حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں جن کے بارے میں سرکاری حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے۔

ان افراد کی ہلاکت کا واقعہ گذشتہ روز ضلع آواران کی تحصیل مشکے میں پیش آیا تھا۔ آواران میں سویلین انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے جن پانچ افراد کی لاشیں ان کے حوالے کیں ہیں ان کا تعلق ضلع آواران ہی سے تھا۔

کوئٹہ میں حکومت بلوچستان کے ترجمان انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ ہلاک ہونے والے افرادکا تعلق ایک عسکریت پسند تنظیم کے انور فدا گروپ سے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ افراد سکیورٹی فورسز سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے۔

انوارالحق کاکڑ نے بتایا کہ مشکے میں اس کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے کیمپ سے اسلحہ اور ریاست مخالف لٹریچر بھی برآمد کیا گیا ہے۔

تاہم مشکے میں رونما ہونے والے اس واقعے کے بارے میں بلوچ نیشنل فرنٹ کی جانب سے مقامی میڈیا کو جو بیان جاری کیا گیا ہے اس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان افراد کو دورانِ حراست ماراگیا۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے نیک محمد کو فروری کے مہینے میں مشکے کے علاقے منجھو، الٰہی بخش کو دو روز قبل مشکے سے، جب کہ علی بخش، عبدالکریم کو کالرو، عظیم بلوچ کو کالار اور حافظ سرفراز کو اگست 2014 میں بھوانی مدرسے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں