کیا حکومت جا رہی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جو قوم سرکس میں جا کر معصوم روسی کتے سے پوچھتی ہے کہ حکومت کب جا رہی ہے وُہ اپنے سیاسی تجزیہ نگاروں سے اِس سوال کا جواب کیوں نہ مانگے

وطن عزیز میں پرانے وقتوں میں تفریح کا ایک بڑا ذریعہ لکی ایرانی سرکس ہوتا تھا۔ ہر بڑے میلے پر اور عید کے موقع پر بڑے بڑے شہروں میں ہاؤس فل رہتا تھا۔ اب بھی شاید کہیں ہے لیکن بڑے شہروں کا رخ نہیں کرتا۔ جنرل ضیا الحق کا عروج تھا ۔ لکی ایرانی سرکس نے اپنے شو میں ایک چھوٹا سا سفید رنگ کا خوبصورت سا کتا شامل کیا۔ جب پنڈال میں تھکے ہوئے شیر اپنی تابع داری کے کرتب دکھا چکتے اور زرق برق لباسوں میں کم عمر مداری تاروں پر قلا بازیاں لگا کر داد پاتے تو تماشائیوں سے کہا جاتا کہ یہ معصوم سا روسی نسل کا کتا آپ کے ہر سوال کا جواب دے گا۔

٭ خواجہ آصف کی نظر میں عورت

٭ بیویوں سے ڈرتے ہو

کتا انسانی زبان سے نا واقف تھا تو ہر سوال کا جواب نفی یا اثبات میں سر ہلا کر دیتا ایک تماشبین نے سوال پوچھا کہ کیا یہ حکومت جا رہی ہے۔ خدا جانے آج کل کے میڈیا کی طرح لکی ایرانی سرکس کی بھی کچھ ادارتی مجبوریاں تھیں یا نہیں لیکن کتے نے نفی میں سر ہلایا۔ اور اِتنی دیر تک ہلاتا رہا کہ پورا پنڈال تالیوں سے گونج اُٹھا۔

کتے کی نیت شاید ٹھیک ہو لیکن اُس کی سیاسی پیشگوئی پوری سچ ثابت نہ ہوئی حکومت تو کیا جانی تھی چند مہینوں بعد خود ضیاالحق ہی چلے گئے۔

ذرا سوچیں یہ وہ زمانے تھا کہ ملک میں ایک ٹی وی چینل تھا۔ ایف ایم ریڈیو بھی نہیں آیا تھا آپ سرکس دیکھنے آئے ہیں روسی کتے سے کچھ بھی پوچھ سکتے ہیں لیکن پوچھا کیا؟ حکومت جا رہی ہے کہ نہیں۔

راقم نے نوے کے عشرے میں ایک دھڑلے دار سیاسی جریدے میں جونیئر رپورٹر کے طور پر صحافت کی ہر دوسرے مہینے کے بعد ہمارے سر ورق پر جو کہانی ہوتی تھی اُس کا لُب لباب بھی یہی ہوتا تھا کے حکومت جا رہی ہے۔ بس آپ دیکھیں ابھی گئی، اِس مہینے نہیں تو اگلے مہینے۔ بس گرمیاں گزر جانے دیں، بس عید کی دیر ہے اپنے سات سالہ کیرئیر میں ہم نے تین حکومتیں گھر بھیج دیں اور ہر دفعہ کہا کہ ہمارے رسالے نے تو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا۔

پرنٹ سے بات ٹی وی پر آ گئی تو جو پیشن گوئی ہمارے سینئیر اور باخبر صحافی ہر مہینے کرتے تھے اب ہر روز کرنا پڑتی ہے بعض دفعہ تو دن میں ایک بار سے زیادہ۔ اور اُس کے بعد باقی وقت میں حیرت کا اظہار کہ یہ کیسی ڈھیٹ حکومت ہے ابھی تک گئی کیوں نہیں۔ یہ سلسلہ اِتنے عرصے سے اور تواتر سے جاری ہے کہ حکومتوں کو گھر بھیجنے اور صحافت میں کچھ روحانی سا رشتہ بن گیا ہے۔

گذشتہ حکومت میں کوئی دِن ایسا نہیں گزرا جب حکومت گھر نہیں گئی، عمر رسیدہ، سنجیدہ، منجھے ہوئے صحافی دِن دہاڑے ٹی وی پر آ کر بیٹھے رہتے اور اِس بات پر پریشان رہتے کہ ابھی تک فوج کے ٹینک سڑکوں پر کیوں نہیں آئے۔ آصف زرداری کی ایمبولینس کہاں غائب ہو گئی۔ زرداری صاحب نے تو اپنے تکیے کے نیچے پستول رکھا ہوا ہے ہو سکتا ہے اپنے آپ کو ہی گولی مار لیں۔ لیکن اڈیالہ جیل میں جو سیل ہم نے اِتنے دنوں سے تیار کرا رکھا ہے اُس کا کیا ہو گا۔ ہمیں دیکھو ہم میک اپ کر کے دِن کے وقت سکرینوں پر بیٹھے ہیں اور حکومت ہے کہ جا کہ نہیں دے رہی۔ اب چلی بھی جاؤ ہمیں رات کو آ کر ریگولر شو بھی کرنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوال یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ مارشل لا آ رہا ہے یا نہیں

نواز شریف کی حکومت کو بھی آتے ہی گھر بھیجنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ بلکہ جان نشینوں میں بھی پھوٹ ڈالوا دی گئی۔ لیکن حکومت جا کہ نہیں دیتی۔ بڑی عید گزری اب پھر روزے آ گئے ہیں ایک اور عید آنے والی ہے حکومت وہیں بیٹھی ہے۔ میں اِس بے تابی کا الزام ٹی وی والوں کو ہرگز نہیں دیتا جو قوم سرکس میں جا کر معصوم روسی کتے سے پوچھتی ہے کہ حکومت کب جا رہی ہے وُہ اپنے سیاسی تجزیہ نگاروں سے اِس سوال کا جواب کیوں نہ مانگے، جو قوم سرکس میں صحافت ڈھونڈ لے گی وہ صحافت میں سرکس پا ہی لے گی۔

مجھے صرف اِتنی فکر ہے کہ عید پر گاؤں جانا ہے۔ وہاں عید ملنے کے بعد ، بچوں کا حال احوال کر کے کراچی کے حالات کے بارے میں پریشانی کے اظہار سے پہلے یہی سوال ہو گا کہ کیا حکومت جا رہی ہے ؟ میں نے بھی کچھ جواب سوچ رکھے ہیں۔

دیکھیں جی حکومتیں کئی ہیں۔ ایک حکومت لندن میں اپنا دِل چیر کے بیٹھی ہے اور قوم مان کے نہیں دے رہی۔ ایک حکومت دبئی میں بیٹھی رینجرز کہ ہاتھوں بنی کسی نئی ویڈیو کا اِنتظار کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ دوست، دشمن اور نوٹ گِن رہی ہے۔

ایک حکومت بنی گالہ میں روزہ رکھ کر جاگنگ کر رہی ہے۔ مستقبل کی ایک انقلابی حکومت آج کل کینیڈا سے تعطیلات گرما منانے پاکستان آئی ہوئی ہے اب کس حکومت کو فارغ کریں اور فارغ کر کے کہاں بھیجیں۔ اِس عمر میں سرتاج عزیز کو گھر بھیجنا بے ادبی سے لگتی ہے۔

دوسرا سوال یہ ہو گا کہ بتائیں مارشل لا آ رہا ہے یا نہیں۔ جواب میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مارشل لا گیا کہاں تھا جو واپس آئے گا ہم تو افغانستان میں مارشل لا لگانے کے چکر میں ہیں آپ ابھی تک اپنے ملک میں ڈھونڈ رہے ہیں۔

پھر سوچتا ہوں کہ اگر یار لوگ باز نہ آئے اور پوچھتے رہی کہ حکومت کب جا رہی ہے تو لکی ایرانی سرکس کے معصوم کتے کی طرح اُس وقت تک نفی میں سر ہلاتا رہوں گا جب تک کوئی سیانا یہ نہ کہہ دے ’چھڈو جی ایہہ دسو کراچی دے حالات کدوں ٹھیک ہون گے۔‘

اسی بارے میں