’اپنی ناکامیوں پر مجھے قربانی کا بکرا نہ بنائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’میں امریکہ میں ایک سکالر ہوں نہ کہ لابنگ کرنے والا‘

امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والی تنقید پر سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی کو قربانی کا بکرا نہیں بنانا چاہیے۔

منگل کو وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ امریکہ میں پاکستان کے ایک سابق سفارتکار کی وجہ سے دنیا میں پاکستان کو لابی کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔

٭ ’پاکستان کے سابق سفیر کے باعث لابیئنگ میں دشواریاں ہیں‘

٭ نواز حکومت کی خارجہ پالیسی کی دس کامیابیاں

٭ ’میمو ایک حقیقت اور خالق حسین حقانی ہیں‘

اس کے جواب میں حسین حقانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ سرتاج عزیز نے ان کے بارے میں ہی بات کی ہے کیونکہ ایک اور وزیر نے بھی ان کا نام لے کر ایسے ہی دعوے کیے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہنے والے حسین حقانی نے بیان میں مزید کہا ہے کہ پاکستانی حکام کو اندرون ملک ہونے والی تنقید پر سے توجہ ہٹانے کے لیے کسی کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے اپنی ناکام پالیسیوں اور انھیں بیرون ملک برے طریقے سے پیش کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے سابق سفارتکار کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ وہ پاکستان مخالف لابی کے ساتھ مل کر ملک دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حسین حقانی نے اپنے بیان میں اس بارے میں کہا کہ’ میں امریکہ میں ایک سکالر ہوں نہ کہ لابیئنگ کرنے والا، اگر ایک سکالر کے طور پر میری رائے امریکی پالیسی پر اتنا وزن رکھتی ہے کہ وہ اس سے اثر انداز ہو رہی ہے تو پاکستانی دفتر خارجہ کو میری رائے پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ میرے ساتھ اچھوت جیسا سلوک کیا جائے اور پاکستانی میڈیا میں میرے خلاف جھوٹے الزامات لگائے جائیں۔‘

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں سردمہری کے تناظر میں حسین حقانی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات میں مشکلات کی وجہ اس کی برسوں سے جہادیوں کی حمایت اور اس پر بہانے بنانا ہے کہ اس سے امریکی بہت کم متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان کے امریکی امداد پر انحصارکی وجہ سے اس کے بارے میں امریکی قومی مزاج اور رویے کے احساس میں تبدیلی آئی ہے۔

حسین حقانی نے مزید کہا کہ’ انھوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نیٹ ورک نہیں قائم کیا تھا، اور نہ ہی افغانستان میں امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے والے طالبان کی حمایت کی اور نہ ہی اقوام متحدہ کی جانب سے قرار دیے جانے والے دہشت گرد گروپوں کو کھل عام سرگرمیوں کی اجازت دی، تو اس میں اسی کوئی نکتہ نہیں کہ مجھے ان پالیسیوں کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے اور نہ ہی میں یا دوسرا کوئی سفیر اسامہ بن لادن کے واقعے کا ذمہ دار ہے۔‘

انھوں نے اپنے بیان کے آخر میں مشیر خارجہ کو مشورہ دیا کہ امریکہ میں موجود ایک سکالر کے خلاف اسلام آباد میں شور مچانے سے واشنگٹن میں چیزیں نہیں بدلیں گی۔

اسی بارے میں