سری لنکن ٹیم پر حملے کے ملزمان پر فردِ جرم عائد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے شہر لاہور میں قائم انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے الزام میں ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔

سینٹرل جیل کوٹ لکھپت لاہور میں ہونے والی کارروائی کے دوران چھ ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی.

ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا اور خود پر عائد الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جن ملزموں پر فرد جرم عائد کی ان میں زبیر عرف نیک، عدنان ارشد، عبدالوہاب، جاوید انور، ابراہیم جلیل اور عبیداللہ شامل ہیں۔

تین مارچ 2009 کو پاکستان کے دورے پر آنے والی سری لنکن کرکٹ ٹیم پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ میچ کھیلنے کے لیے قذافی سٹیڈیم جا رہی تھی۔

سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے سٹیڈیم کے قریب گھات لگائے دہشت گردوں نے کیا اور اس کے نتیجے میں سات پولیس اہلکار مارے گئے۔ اس کے بعد سے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے۔

انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے ملزموں کے صحت جرم سے انکار پر سرکاری گواہوں کو طلب کر لیا۔

اس مقدمے میں ایک ملزم ڈاکٹر عثمان کو فوجی عدالت کی سزا پر پھانسی دے دی گئی جبکہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے سابق سربراہ ملک اسحاقجنوبی پنجاب کے شہر مظفر گڑھ میں پولیس مقابلے میں مارے گئے۔

مقدمے کے دو ملزم عبدالرحمان اور محسن رشید تاحال مفرور ہیں۔

سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے مقدمے پر پہلے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت ہوئی تاہم فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد یہ مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں