ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین کے بھائی اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین عبد الخالق ہزارہ کے بھائی عبد العلی ہزارہ کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

عبد العلی ہزارہ کو نامعلوم مسلح افراد گن پوائنٹ پر ان کے ڈرائیور سمیت تین افراد کے ہمراہ ان کے دفتر سے اٹھا کر لے گئے تھے۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے مقامی رہنما اور کوئٹہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے کونسلر بوستان علی ہزارہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کے سربراہ کے بھائی کوئلے کے کارروبار سے وابستہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ ریگل پلازہ میں اپنے دفتر میں معمول کے امور کو نمٹانے کے لیے پہنچے تو کچھ دیر بعد سات آٹھ کے قریب مسلح افراد ان کے دفتر میں داخل ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ دفتر میں عبد العلی ہزارہ کے ساتھ ان کا ڈرائیور اور ایک مستری بھی موجود تھے۔

بوستان علی ہزارہ کے مطابق پہلے مسلح افراد نے تینوں افراد کو مارا پیٹا اور پھر ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اپنے ساتھ لے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ شہر کے جنوب میں پہلے 13 میل کے علاقے میں عبد العلی ہزارہ کے ڈرائیور کو، جبکہ کچھ فاصلے کے بعد مستری کو چھوڑ دیا گیا، جب کہ مسلح افراد پارٹی کے سربراہ کے بھائی کو کسی نامعلوم مقام کی جانب لے گئے۔

بوستان علی ہزارہ کے مطابق تاحال عبد العلی ہزارہ کو گن پوائنٹ پر لے جانے کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے تاہم انھوں نے بتایا کہ اس صورت حال سے بلوچستان حکومت اور پولیس کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

جب اس واقعے کے بارے میں سٹی پولیس سٹیشن سے رابطہ کیا گیا تو ایک اہلکار نے بتایا کہ تاحال عبد العلی ہزارہ کے اغوا کا مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔

ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کوئٹہ شہر کے ہزارہ قبیلے پر مشتمل افراد کی قوم پرست جماعت ہے۔

2009 میں پارٹی کے بانی صدر حسین علی یوسفی کے قتل کے بعد عبد الخالق ہزارہ پارٹی کے صدر منتخب ہوئے تھے۔

اسی بارے میں